بھارتی اقدامات کے بعد شملہ معاہدہ بے معنی دستاویز بن چکا ہے، صدر آزاد کشمیر

مظفرآباد (عدالت نیوز)آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت نے خود شملہ معاہدہ کو بیکار اور بے معنی دستاویز میں تبدیل کر دیا ہے۔ پاکستان کو اس معائدہ سے علیحدگی کا اعلان کر کے الزام اپنے ذمہ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ شملہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل کے حل کے لیے دو طرفہ مذاکرات کی بات کرتا ہے لیکن دو طرفہ مذاکرات سے بھارت پہلے ہی راہ فرار اختیار کر چکا ہے۔ کشمیر کے حوالے سے بھارت کے اقدامات کے بعد اب پاکستان بھی بھارت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار نہیں ہو گا۔ پاکستان کے ممتاز صحافی معید پیر زادہ کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں یکطرفہ غیر قانونی اقدامات کر کے خطہ کی حرکیات اور تنازعہ کشمیر کے بنیادی عوامل کو تبدیل کر دیا اس لیے پاکستان اور جموں و کشمیر کے عوام اس نئی صورتحال میں کسی قسم کے مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جب صدر آزا دکشمیر سے پوچھا گیا کہ اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ پاکستان نے 1972 کے شملہ معا ہدہ پر اپنا موقف تبدیل کر لیا  ہے تو صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ایسے وقت میں جب مسئلہ کشمیر ایک عالمی تنازعہ کے طور پر اُجاگر ہو چکا ہے ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم اسے دو طرفہ معاملہ بنا کر سرد خانے کی نظر کر دیں۔ اُنہوں نے کہا کہ باہمی مذاکرات کا ڈھونگ ایک ایسا سراب ہے جس کو بھارت نے ہمیشہ مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنے نا جائز قبضہ کو دوام بخشنے کے لیے ایک حربہ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اس لیے ہمارا موقف یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی برادری کے سامنے رکھنے کے لیے جو گنجائش پید ا ہوئی ہے اسے ضائع کرنے کے بجائے اس سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا بھارت کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت کی تمام اُمیدیں دم توڑ چکی ہیں، صدر سردار مسعود خا ن نے کہا کہ ہمیں اقوام متحدہ ا مکانی طاقت کے استعمال پر زور د دینا چاہیے کیونکہ یہی وہ عالمی فورم ہے جس کا اس مسئلہ سے براہ راست تعلق ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے تیسرے  فریق کی ثالثی قبول کرنے کے لیے بھی تیار ہیں جس کے لیے میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ روس کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔ لیکن کچھ اسکینڈے نیویائی ممالک ضرور کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگرچہ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی ثالثی کی پیشکش کی ہے لیکن اُن کی پیشکش میں گہرائی کم اور زیبا ئش زیادہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایک شہری ہونے کی حیثیت سے ہم ہر قسم کی سفارتکاری پر یقین رکھتے ہیں اور میں اس بات پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ جب ہم کشمیر کے حوالہ سے سفارت کاری کی بات کرتے ہیں تو یہ سفارتکاری اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے شروع ہونے چاہیے کیونکہ ان قرار دادوں کو طویل سوچ و بچار اور غور و حوض کے بعد منظور کیا گیا تھا۔ جنہیں کسی صور ت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سفارتی کوششوں کی کامیابی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو ان کوششوں کا حصہ بنایا جائے کیونکہ وہ اس تنازعہ کے بنیادی فریق ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے نام اپنے پیغام میں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہم اپنے محکوم بھائیوں اور بہنوں کو عدیم المثال جرات، بے مثال حوصلے اور مضبوط عزم و استقلال پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ وہ گزشتہ سات دہائیوں سے ظلم و جبر کا مقابلہ کر رہے ہیں اور انگنت قربانیوں کے باوجود بھارت کے آگے سر جھکانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ

Scroll To Top