عدالت میں جھوٹ بولنا کلچر بن گیا

nawaza

اسلام آباد( آن لائن)سابق وزیراعظم نوازشریف کیخلاف العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ جوڈیشری کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عدالت میں جھوٹ بولنا کلچربن گیا،مدعی، وکیل اور ملزم سب جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں،پھرجج سے توقع کی جاتی ہے وہ انصاف پرمبنی سچا فیصلہ دے،جج ارشدملک نے کہا کہ یہ توایسے ہے کسی کودال چنے کاسالن دے کر کہاجائے کہ بوٹیاں نکالو۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں نوازشریف کیخلاف العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس کی سماعت جاری ہے، احتساب عدالت کے جج ارشد ملک ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں۔ نیب پراسیکیوٹرواثق ملک نے حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قطری شہزادے کے پہلے اوردوسرے خط میں تضادہے،پہلے خط میں قطری شہزادے نے کہا 12ملین درہم کے بدلے ایون فیلڈفلیٹس دئیے، دوسرے خط کیساتھ ورک شیٹ لگائی، کہا اپروول کے بعد فلیٹس دئیے۔

جج ارشد ملک نے کہا کہ بعض دفعہ وکیل بدلنے سے موقف میں بھی تبدیلی آجاتی ہے،پاناما کیس میں پہلے دن سے نوازشریف کاایک ہی وکیل ہے یاتبدیل ہوئے؟

جج ارشد ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشری کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عدالت میں جھوٹ بولنا کلچربن گیا،مدعی، وکیل اور ملزم سب جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں،پھرجج سے توقع کی جاتی ہے وہ انصاف پرمبنی سچا فیصلہ دے،جج ارشدملک نے کہا کہ یہ توایسے ہے کسی کودال چنے کاسالن دے کر کہاجائے کہ بوٹیاں نکالو۔
Scroll To Top