زرداری اور فریال کیخلاف تحقیقات ایف آئی اے افسروں کو مہنگی پڑ گئیں

news-1536303809-1359

لاہور (ویب ڈیسک) سابق صدر آصف علی زرداری ، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور اور دیگر کے خلاف 35 ارب کی مبینہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرنے والے ایف آئی اے افسر جیب سے خرچہ کرنے پر مجبور ہیں، ٹی اے ڈی اے کے بلز ابھی تک کلیئر نہیں کئے جا سکے۔

روزنامہ دنیا کے مطابق تحقیقاتی ٹیم میں کراچی کے علاوہ لاہور کے بھی 5 افسر شامل تھے جن میں دو ڈپٹی ڈائریکٹرز اور باقی اسسٹنٹ ڈائریکٹرز شامل ہیں۔ ٹیم ڈیرھ ماہ میں 5 سے زائد بار کراچی جبکہ متعدد بار اسلام آباد گئی تاہم اس ضمن میں وزارت داخلہ کی جانب سے تحقیقاتی ٹیم کو الگ سے کوئی فنڈز نہیں دیئے گئے، اس لیے خرچہ جیب سے کیا ۔ ذرئاع کا کہنا ہے کہ ہوائی سفر پر 2 لاکھ سے زائد کے فی کس اخراجات ہوچکے ہیں جبکہ کراچی و اسلام آباد رہائش اور کھانے پینے کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ہوائی سفر کے علاوہ ہر افسر کو 2 ہزار روپے ٹی اے ڈی اے کی مد میں ادا کئے جائیں گے ، ہر افسر تقریباً ڈھائی لاکھ روپے کے بل اکاؤنٹس آفس میں جمع کرا چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے اس تحقیقات پر ہونے والے اخراجات کے لئے 2کروڑ روپے کی رقم مانگی ہے۔ اس ضمن میں ایف آئی اے ترجمان کا کہنا ہے کہ کسی کے بل نہیں روکے ، جس افسروں نے بل جمع کرادیئے ہیں فنڈز آنے کے بعد انہیں رقم کی ادائیگی کر دی جائے گی۔

Scroll To Top