اسلام آباد ہائیکورٹ،نیب اعتراض کے بعد کیپٹن (ر)صفدر کی سزا معطلی کی درخواست موخر

news-1533718122-3659

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب اعتراض کے بعد کیپٹن (ر)صفدر کی سزا معطلی کی درخواست موخر کردی ،عدالت نے کیپٹن (ر)صفدرکے وکیل کودرخواست میں ترمیم کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن پر مشتمل بنچ نے کیپٹن صفدر کی سزا معطلی کیخلاف درخواست کی سماعت کی۔

نیب پراسیکیوٹر نے درخواست قابل سماعت ہونے پراعتراض کرتے ہوئے کہا کہ مختصرسزاکی معطلی کی درخواست کیلئے کم از کم 6 ماہ انتظار کرنا پڑے گا،ایک درخواست منظور کی جاتی ہے تواس کااثردوسرے کیسزپربھی پڑے گا۔

سردار مظفر نے کہا کہ جب اپیل سماعت کیلئے مقرر ہوجائے تو سزا معطل نہیں کی جاسکتی، یہاں تک کہ سزا معطلی کی درخواست بھی غیر موثر ہوجاتی ہے، درخواستگزار کی طرف سے ایک ہی دن سزا معطلی اور اپیل دائر کی۔کیپٹن صفدر کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ 5 سال سے کم سزاپر معطلی کی درخواست منظور کی جاسکتی ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس درخواست کو دیگرسےاسی بنیاد پرالگ کیا ہے ،امجد پرویز نے کہا کہ عدالت نے جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پردستخط کے الزام پرسزا سنائی،جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ کو ایکسپرٹ کی گواہی پر جعلی قرار دیا گیا؟۔

امجد پرویز نے کہا کہ جی ایساہی ہے، ایکسپرٹ نے تسلیم کیا 2005میں کیلبری فونٹ موجود تھا،رابرٹ ریڈلے نے تسلیم کیا کہ وہ ڈاو¿ن لوڈ کرکے کیلبری فونٹ استعمال کرچکاہے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ابھی میرٹس پر بات نہ کریں تو بہتر ہے، جسٹس میاں گل نے استفسار کیا کہ سردار صاحب !آپ بتا سکتے ہیں ٹرسٹ ڈیڈ ہے کیا ؟،سردار مظفر نے کہا کہ معذرت کے ساتھ میں ابھی کیس کے میرٹس پر دلائل نہیں دے رہا۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ آپ نے د رخواست میں احتساب عدالت کو فریق نہیں بنایا،آپ کی بنیادی استدعا ہی احتساب کورٹ کافیصلہ معطل کرنے کی ہے۔

Scroll To Top