مجھے خوشی ہے آصف علی زرداری وطن واپس آرہے ہیں،ان کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنی چاہیے، نواز شریف

53f90d1d85a19

سراجیو(یوا ین پی)وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کا جائزہ لوں گا، اگر کمیشن بنا ہے تو اس کی رپورٹ منظر عام پر آنی چاہیے، جبکہ مجھے خوشی ہے کہ آصف علی زرداری وطن واپس آرہے ہیں، آصف علی زرداری کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنی چاہیے، دھرنوں کی وجہ سے سی پیک تعطل کا شکار ہوا، اگر دھرنے کی وجہ سے وقت ضائع نہ ہوتا تو 2018 کے بجائے 2017 میں بجلی کا بحران حل ہو جاتا،ہم نے نیپرا کے بجائے خود ریٹ طے کر کے 100ارب روپے بچائے، اس سے زیادہ شفافیت ہو ہی نہیں سکتی ،ماضی میں ملک سے زیادتی کی گئی، نیلم جہلم کو نظر انداز کرنے کے پیچھے بڑی داستان ہے۔بوسنیا میں تین روزہ دورے کے دوران جمعرات کو صبح ناشتہ کے دوران میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری سے اچھا تعلق ہے جو قائم رکھنا چاہتے ہیں، ہم نے آصف زرداری کو صدارت کے بعد اچھے انداز میں رخصت کیا، آصف علی زرداری کے وطن واپس آنے کی خوشی ہے، انہیں وطن واپس آکر اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیئے اور پیپلز پارٹی کی قیادت اپنے ہاتھ میں لینی چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی پی حکومت کے اسکینڈلز پر مجھ سے پوچھا گیا کہ استعفے کیوں نہیں دیتے؟ یہاں تو دھرنوں کو شکرانے میں بدلنے اور استعفوں کو واپس لینے کا بھی چلن ہے۔ میثاق جمہوریت کے بعد جو این آر او کیا اس سے ہمیں دھچکا لگا۔وزیراعظم نے ایک بار پھر دھرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دھرنے کی وجہ سے چین کے صدر کا دورہ 9 ماہ کے لئے ملتوی ہو کر سی پیک تعطل کا شکار ہوا، دھرنے کے منفی اثرات کے باوجود 2018 میں بجلی بحران ختم کر دیں گے لیکن اگر دھرنے کی وجہ سے وقت ضائع نہ ہوتا تو بجلی کا بحران 2017 میں ختم ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ چین والے پنجاب اسپیڈ کی بات ایسے ہی ہوا میں نہیں کرتے، ایل این جی پلانٹ وقت سے پہلے مکمل ہو رہا ہے۔ نیلم جہلم پراجیکٹ بد انتظامی کا شکار تھا جسے حکومت نے بہتر کر دیا، نیلم جہلم منصوبہ بغیر تیاری کے شروع کرنا ملک کے ساتھ زیادتی تھی۔ 1999میں لوڈ شیڈنگ کا بحران نہیں تھا اور ہم بھارت کو بجلی فروخت کرنے کی بات کر رہے تھے اور پھر 2013میں بھارت سے بجلی خریدنے کی بات ہو رہی تھی۔ریگولیٹری اداروں کو وزارتوں کے ماتحت کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ اتھارٹیز نجی شعبے کو ریگولیٹ کرنے کیلئے ہیں لیکن نیپرا نجی شعبے کے بجائے حکومت کو ریگولیٹ کرنے لگا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نیپرا ایل این جی کا بہت زیادہ ٹیرف دے رہا تھا، ہم نے اس سے آدھا ٹیرف لگوایا، ہم نے نیپرا کے بجائے خود ریٹ طے کر کے 100 ارب روپے بچائے، اس سے زیادہ شفافیت ہو ہی نہیں سکتی، ایل این جی پلانٹ کے ریٹ ہم بہت نیچے لے کر آئے، ہم نیپرا کی مانتے تو 2018 میں بھی بجلی کا مسئلہ حل نہ ہو پاتا۔ نواز شریف نے کہا ہے کہ یورپ میں بوسنیا ہمارے دوست ممالک میں سے ہے، جبکہ ہمیں ہر خطے میں اپنے رشتہ مضبوط کرنے چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تمام رشتہ صرف اقتصادی یا تجارتی نہیں ہوتے، جبکہ باقر ایسوچ میرے پرانے دوست کے بیٹے ہیں اور اپنے والد کی طرح صوم وصلوۃکے پابند ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ یورپ میں ہمارا قریبی دوست موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی میڈیا سے بہت سی توقعات ہیں، ہم سب اگر ذمہ داری نبھائیں تو پاکستان اچھا ہوجائے گا، جبکہ کچھ میڈیا ہاوسز بہت ذمہ داری سے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ میڈیا کو پوچھنا چاہیے کہ ہماری حکومت کے جانے کے بعد موٹر وے کیوں نہیں بنی، جن سیاست دانوں نے موٹر وے پر تنقید کی انھوں نے موٹر وے پر سفر بھی کیا۔
Scroll To Top