سپریم کورٹ آزادکشمیر نے عدالت العالیہ کے فیصلے کیخلاف حکم امتناعی جاری کر دیا

highcourt

میرپور(کے این آئی)سپریم کورٹ آزاد جموں وکشمیر نے عدالت العالیہ کے فیصلے کیخلاف حکم امتناعی جاری کر دیا ہے آئندہ سماعت موسم سرما کی تعطیلات کے بعد 8جنوری کو ہوگی ۔ یہ بات پیپلزپارٹی کے آزادکشمیر کے سیکرٹری جنرل و سابق وزیر خزانہ چوہدری لطیف اکبر نے گزشتہ روز پیپلزسیکرٹریٹ میں سابق وزراء سردار جاوید ایوب ، میاں عبدالوحید ، سابق مشیر شوکت راجہ ، مرزا جاویدا قبال ، پروفیسر افضل مرزا ، عامر ذیشان جرال ، الحاج غلام رسول عوامی ، فرید انور ایڈووکیٹ ، راجہ خلیل یوسف ، ناصر جرال ، ذوالفقار ذلفی و دیگر رہنماؤں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطابکرتے ہوئے بتائی چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے قیام سے ہی اداروں کی تباہی ، میرٹ کی دھجیاں بکھرنے اور انتقامی کارروائیوں کا ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے حکمرانوں نے پہلے تعلیمی پیکیج کو ختم کیا جس کے خلاف متاثرین عدالتوں میں گئے تعلیمی پیکیج کے خاتمے سے 5200نونہالان قوم کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے انہیں پیپلزپارٹی کے دوران میں قائم ہونے والے ادارے اور تعلیمی پیکیج ہضم نہیں ہو رہا پہلے تعلیمی پیکیج ختم کیا ، میڈیکل یونیورسٹی اور کالجوں کے قیام کیخلاف کمیٹیاں بنائیں پبلک سروس کمیشن کو راتوں رات آرڈیننس کے ذریعے بیک جنبش قلم ختم کیا جو کہ سراسر خلاف قوائد اور تضحیک آمیز ہے حالانکہ اگر انہیں پبلک سروس کمیشن کیخلاف کوئی کارروائی کرنا ہی تھی تو پہلے عدلیہ کے کسی جج سے انکوائری کرواتے مگر اب جبکہ حکمرانوں کو یہ پتہ چلا کہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ن لیگ کے لوگ بھرتی نہیں ہو رہے تو انہوں نے پہلے تو پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین جو سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ رہ چکے ہیں کو کہا کہ وہ ٹیسٹ انٹرویو نہ لیں مگر جب انہوں نے دو دو دفعہ پبلک سروس کمیشن کلیئر کرنے والوں سے ٹیسٹ و انٹرویوز لیے تو حکمرانوں نے راتوں رات پبلک سروس کمیشن ہی ختم کر دیا ۔ اسی طرح ریڈ کریسنٹ کے چیئرمین کو بھی خلاف ضابطہ برطرف کیا گیا ہے حالانکہ ان کی مدت ایک سال رہتی ہے ۔ چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ تعلیمی پیکیج پہلے باقاعدہ کابینہ بعدازاں اسمبلی کی منظور ی سے نافذ کیا گیا جسے اسمبلی ہی ختم کر سکتی کوئی اور نہیں مگر حکمرانوں نے تعلیمی پیکیج کو ختم کر کے متعدد تعلیمی اداروں اور زیر تعلیم 92سو نونہالان قوم کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے پیپلزپارٹی ایسا ہر گز نہیں ہونے دیگی یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ تعلیمی پیکیج کے خاتمہ کیخلاف ہم لوگ عدالتوں میں نہیں گئے بلکہ تعلیمی پیکیج کے خاتمہ کے حکومتی اقدامات سے متاثر ہونے والے بچوں کے والدین نے عدالت العالیہ سے رجوع کیا تھا ۔ ہمیں عدالتوں پر مکمل اعتماد ہے اور عدالتی فیصلے لوگوں کے چہرے دیکھ کر نہیں میرٹ اور انصاف پر مبنی ہونے چاہیں ۔ ہمیں پوری توقع ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا۔ چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا اور عدالتی فیصلوں کو تسلیم کیا جبکہ ن لیگ والوں کا عدلیہ اور اس کے فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالہ سے ٹریک ریکارڈ اچھا نہیں اور یہ من پسند فیصلے چاہتے ہیں ماضی میں مسلم لیگ ن سپریم کورٹ پاکستان پر حملہ آور ہوئی جبکہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ عدلیہ کا احترام کیا سپریم کورٹ نے تعلیمی پیکیج کے حوالہ سے ہماری لیو ٹو اپیل منظور کر لی ہے اور موسم سرما کی تعطیلات کے خاتمہ پر 8جنوری کو دوبارہ سماعت ہو گی ۔ ہمیں اپنی عدلیہ پر فخر ہے آزادکشمیر عدلیہ شاندار روایات کی حامل ہے اور ہمیں پوری توقع ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا فیصلہ میرٹ پر ہی ہوگا۔ چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ آزادکشمیر کے الیکشن جو کچھ ہوا سب کے سامنے ہے آزادکشمیر کی سیاسی تاریخ میں ا س سے بڑھ کر رگڈ الیکشن نہیں ہوئے جن کے نتیجہ میں ن لیگ اقتدار میںآئی لیگی حکمران اپنی من مانیوں ،ضد اورہٹ دھرمی کے باعث ہمیں تحریک چلانے کی جانب دھکیل رہے ہیں ۔ پیپلزپارٹی حکمرانوں کو کھل کھیلنے کی اجازت نہیں دیگی اور عوامی مفادات کے تحفظ کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ تعلیمی پیکیج پیپلزپارٹی کے دور میں کابینہ اور اسمبلی کی منظور ی سے نافذ ہوا اس کے خاتمے کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔
Scroll To Top