حکومت کے پہلے 5ماہ کے دوران سیاسی اور انتظامی سطح پر سخت اور غیر مقبول فیصلے کئے ،طارق فاروق کا اعتراف، مثبت اثرات آہستہ آہستہ سامنے آئیں گے:سینئر وزیر

tariq-farooq

مظفرآباد( پی آئی ڈی)سینئر وزیرآزاد کشمیر حکومت اور کابینہ انتظامی اصلاحات کمیٹی کے چیئرمین چوہدری طارق فاروق نے کہا ہے کہ تسلیم کرتے ہیں کہ حکومت کے پہلے 5ماہ کے دوران سیاسی اور انتظامی سطح پر سخت اور غیر مقبول فیصلے کئے جن کے مثبت اثرات آہستہ آہستہ سامنے آئیں گے ۔ میرٹ کے نفاذ کے لئے کوئی دباؤ قبول نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر ، صدر پاکستان مسلم لیگ ن وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ویژن کے مطابق آزاد کشمیر میں گڈ گورننس کے قیام کیلئے کوشاں ہیں ۔ بیوروکریسی کے غلبے کا تاثر آہستہ آہستہ ختم ہوگا۔ کفایت شعاری کیلئے اپنا پیٹ کاٹنا پڑتا ہے ۔ حکومت کی نیت ٹھیک ہے ۔ انتخابی وعدوں کو عملی شکل دینے کیلئے غیر مقبول فیصلے قابل عمل بنائیں گے ۔ جہاں بہتری کیلئے ہاتھ ڈالتے ہیں ’’مافیا‘‘ آڑے آجاتے ہیں ۔ اصلاحات کی راہ میں پارٹی سے زیادہ بیوروکریسی حائل ہے ۔ ’’مناپلی‘‘‘ توڑنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ملازمتوں کیلئے تمام اداروں میں این ٹی ایس لائیں گے ۔ محکمہ تعلیم سے اس کا آغاز کیا ہے ۔ جعلی ڈگریوں کی تصدیق کا عمل جاری ہے ۔ اس سلسلہ میں کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی ۔ ایسے کوئی کام نہیں کرینگے جو گزشتہ دور میں بحیثیت اپوزیشن تنقید کا نشانہ بناتے رہے ۔ تقرریوں اور ٹرانسپورٹ پالیسی سمیت انتظامی اصلاحات کے لئے سفارشات دو ہفتوں تک سامنے آجائیں گی ۔ ممبر اسمبلی کیلئے لاء گریجویٹ ہونے کی تجویز دے رہا ہوں ۔ تمام سرکاری اداروں کو فعال بنانے سمیت انتظامیہ کی رائٹ سائزنگ کرینگے ۔ خلاف میرٹ اور جعلی تقرریوں کی چھان بین مشکل کام ہے تاہم یہ ضرور کرینگے ۔ گڈ گورننس کے قیام ، اداروں میں بہتری کیسے لائی جائے ؟بیماری کی تشخیص کرلی ہے ۔ علاج میں وقت لگے گا۔ بلدیاتی اداروں میں سیاسی ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہواتاہم اگر کابینہ یا پارٹی کی سطح پر کوئی فیصلہ ہوتا ہے تو اس پر فوری عمل ہوگا۔ عدالتی احکامات کی روشنی میں بلدیاتی الیکشن مئی تک ہونگے انتظامات شروع ہیں ۔ یہاں مظفرآباد میں سینئر صحافی طارق نقاش کیساتھ خصوصی انٹرویو میں سینئر وزیر حکومت نے حکومت کے پانچ ماہ کے عرصہ میں کئے گئے اقدامات کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات پر تفصیلی اور جامعہ جوابات کے دوران واضح کیا کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی کو گزشتہ پانچ سال کے دوران عمیق نظروں سے دیکھا گیا ہے ۔ چوہدری طارق فاروق کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران اسمبلی کے اندر خرابیوں کی نشاندہی کرتے رہے اور احتجاج کرتے رہے مگر سابق حکومت نے نہ سننے کا عہد کررکھا تھا جس کیوجہ سے آزاد کشمیر میں ادارے تباہ ہوگئے اور یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پیپلز پارٹی نے من مانی کے ذریعہ ادارے مفلوج کرکے قوم کا مستقبل خراب کیا۔ عام انتخابات کے دوران ہم نے پیپلز پارٹی کی بری حکمرانی اور کرپشن کوانتخابی مہم کا موضوع سخن بنایا۔ آزاد کشمیر کے عوام نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے تعمیر و ترقی کے ویژن اورپیپلز پارٹی کے 5سال کی بری حکمرانی کیوجہ سے مسلم لیگ کو ووٹ دیا۔ گزشتہ دور میں ادارے بچانے اور عوامی حقوق کے تحفظ کیلئے عدالتوں میں جانا پڑااور عدالتوں سے ریلیف ملاجس پر اعلیٰ عدلیہ کے وقار میں اضافہ ہوا۔ شریعت کورٹ بل ، پبلک سروس کمیشن ، چیف الیکشن کمشنر کی تعینات ، سروس ٹریبونلزاور بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سمیت دیگر اداروں کے تحفظ کیلئے عدالتی جنگ ریکارڈ پر موجود ہے ۔ پیپلز پارٹی کے دور میں گورنس کی یہ حالت تھی کہ نصف سے زیادہ سیکرٹریز نے حکم امتناعی حاصل کرکے ملازمتیں بچائیں ۔ ریاست کے اندر اجتماعی طور پر یہ سوچ عام رہی ہے کہ قانون کی کوئی حیثیت نہیں ۔ کسی غلط کام پر کوئی باز پرس نہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا تصور عام رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی بری حکمرانی اور انداز حکومت پر اندرون وبیرون آزاد کشمیر سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ۔ الیکشن میں عوام کی جانب سے میاں محمد نواز شریف کے ویژن ، مسلم لیگ کے انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں کو پذیرائی ملنے کے بعد ناگزیر تھا کہ بہتری کیلئے نئی حکومت مثالی اور عملی اقدام اٹھائے ۔ چنانچہ اس نیت اور خواہش کے تحت نئی حکومت بنتے ہی عوامی خواہشات کو عملی شکل دینے کیلئے کابینہ کی سطح پر مختلف کمیٹیاں بنائی گئیں جن میں انتظامی اصلاحات کمیٹی بھی شامل ہے ۔ اس کمیٹی کا اصل کام گورننس کی بہتری کیلئے اقدامات تجویز کرنا ہے ۔ چنانچہ کمیٹی نے اس حوالے سے کئی اجلاس منعقد کرکے بڑی حد تک اپنا کام مکمل کرلیا ہے ۔ کمیٹی کے تمام ارکان اور بیوروکریسی کے متعلقہ افسران نے جانفشانی اور محنت کیساتھ کام کیا ہے ۔ سب سے پہلے ہم نے سرکاری اداروں اور تمام سٹیک ہولڈرز سے تجاویز لی ہیں تاکہ کل یہ نہ کہا جائے کہ پوچھا نہیں گیا۔ اب یہ کام آخری مراحل میں ہے ۔ سرکاری اداروں اور بیوروکریسی کو اعتماد میں لینے کے بعد سفارشات کو حتمی شکل دینے کیلئے کمیٹی کا ایک اہم اور آخری اجلاس ہونا باقی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں اصلاحات کیلئے کمیٹی کی توجہ اداروں کی کارکردگی پر مرکوز ہے ۔ پبلک سروس کمیشن ، احتساب بیورو سمیت سول سروس کا تمام ڈھانچہ از سر نو تشکیل دینے کی ضرورت ہے ۔ اس وقت 10اضلاع میں جہاں10 ایس پیز اور 10ڈی آئی جیز ہیں ۔ اداروں کی کارکردگی زوال کا شکار ہے مگر انتظامیہ کا سٹریکچر غیر ضروری طور پر پھیل گیا ہے ۔ اصلاحات پر عمل کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہوگی ۔ کمیٹی کابینہ میں اپنی رپورٹ پیش کریگی جس کے بعد عملدرآمد کا مرحلہ ہوگا تاہم عوام کیلئے اچھی خبریں ہیں ۔ کابینہ تو مختصر بنا دی مگر انتظامیہ کا ڈھانچہ غیر ضروری طور پر پھیل گیا۔ مختصر کابینہ کا بڑے حجم کی حامل انتظامیہ کیوجہ سے عوام کو فائدہ نہیں مل سکا۔ دراصل حکومت نے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کی زیر قیادت یہ طے کیا ہے کہ وہ کام نہیں کرینگے جنہیں بحیثیت اپوزیشن تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں ۔ وزراء کی تعداد میں کمی اس سوچ کی عکاس ہے کیونکہ گزشتہ دور حکومت میں آئینی اصلاحات کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں نے 14رکنی کابینہ پر اتفاق کیا تھا۔ چنانچہ ہم نے اس پر عمل کیا ہے ۔ اب چھوٹے چھوٹے محکمہ جات کے سیکرٹریٹ کم کرنے کا مرحلہ ہے ۔ اصلاحات پر عملدرآمد اور میرٹ کے نفاذ کے حوالے سے پارٹی کے اندر سے کم مگر بیوروکریسی کی طرف سے زیادہ ردعمل کا سامنا ہے ۔ انہیں مراعات چھن جانے کا خدشہ ہے ۔ ٹرانسپورٹ پالیسی اور ملازمتوں کے حوالے سے نئی پالیسی کے ساتھ ڈی سینٹرلائزیشن کرکے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کی ضرورت ہے ۔ اختیارات کے ارتکاز کیوجہ سے کارکردگی متاثر ہے ہر کام جب چیف انجینئر کرے گاتو نیچے منفی اثرات پڑتے ہیں ۔ ہم سینٹرل پرچیز کمیٹی ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ بروقت خریداریاں ہوں اور عوام کے لئے سہولیات دیں ۔ کرپشن روکنے کی کوشش کررہے ہیں مگر مشکلات کا سامنا ہے ۔ گزشتہ ادوار میں غیر منتخب ادارے مضبوط ہوئے ۔ علاقوں برادریوں کی سوچ اور بیرونی مداخلت نے اداروں کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں ۔اب ضرورت انتظامیہ کی رائٹ سائزنگ کی ہے ۔ اداروں کے پھیلاؤ کے بجائے ان کا حجم درست کرکے قابل برداشت بنانے کی ضرورت ہے ۔ اداروں کی کارکردگی بہتر بنا کر ہی عوام کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے ۔ ہمارا اصل کام ہی عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنا ہے ۔ احتساب بیورو کو پاکستان کی طرز پر خود مختار بنانے کیلئے کوشاں ہیں ۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق اس ادارہ کے رولز بنا کر مستقل تقرریاں کرینگے ۔ ایڈہاک ازم ختم کرکے چیک اینڈ بیلنس کے نظام پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے کیلئے قانون پر عمل ہونا چاہیے ۔ ممبران اسمبلی الیکشن میں اثاثے ظاہر کرتے ہیں یہ کام ہر سال ہونا چاہیے ۔ جعلی ڈگریوں کے معاملے پر گزشتہ دور حکومت میں اسمبلی میں میری قرارداد پر مطلوب انقلابی کے علاوہ کسی نے حمایت نہیں کی۔ بلدیاتی الیکشن کے لئے بھی میری قرارداد کو اکثریت کے بل بوتے پر بلڈوز کیا گیا۔ اسمبلی میں اس حوالے سے میری اکلوتی آواز تھی ۔ چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ ہر سطح پر ’’مناپلی‘‘ ہے ۔ بیوروکریسی کا مزاج قابل اصلاح ہے ۔ بہتری کیلئے جو بھی قدم اٹھاتے ہیں بیوروکریسی آڑے آجاتی ہے اور مافیا سرگرم ہوجاتے ہیں ۔سرکاری افسران کی سالانہ خفیہ کارکردگی رپورٹ اگر دیانتداری سے لکھی جائیں تو بہتری ممکن ہے ۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ ہماری بیوروکریسی کسی دوسرے صوبے میں کام سے گھبراتی ہے ۔ یہ صرف گھر کے شہباز ہیں ۔ آزاد کشمیر سول سروس میں اسسٹنٹ کمشنر ، اے ایس پیز اور سیکشن افسران کی بھرتی فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے سپرد کردینی چاہیے تاکہ آنے والے وقت میں کم از کم بیوروکریسی تو اہلیت کی حامل ہو۔ ماضی میں سول سروس کو حکومتوں نے اپنی دسترس میں رکھا جس کیوجہ سے آج سول سروس میں کارکردگی ، اہلیت و صلاحیت کے حوالے سے قحط الرجال ہے ۔ دراصل یہاں گائیڈز سے رہنمائی لی جاتی ہے ۔ اصل کتاب اور نصاب پڑھنے کا رجحان نہیں ۔ سرکاری اداروں میں سزا جزا کے تصور کو مستحکم کرکے ہی کارکردگی میں بہتری ممکن ہے ۔ محکمہ پی پی ایچ میں اس کا آغاز کیا گیا ہے اور سیکرٹری سمیت چیف انجینئرز سطح کے افسران کے خلاف کارروائی کی گئی کچھ افسران کی تنزلی ہوئی اور کئی برطرف کئے گئے ۔ بعض شعبہ جات میں سزا جزا کے حوالے سے نرمی دکھائی گئی اس سلسلہ میں سختی کی ضرورت ہے ۔ نرمی دکھانے کیوجہ سے خرابیاں بڑھتی ہیں ۔ سینئر وزیر حکومت نے کہا کہ عوامی توقعات چونکہ بہت زیادہ ہیں اس لئے ان پر پورا اترنے میں وقت لگے گا جبکہ حکومت پر بیوروکریسی کے غلبہ کا تاثر درست کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ سیاسی معاملات اور انتظامی سطح پر غیر مقبول اور سخت فیصلے کئے جن کے اثرات اب سامنے آئیں گے ۔ سز ا و جزا کا تصور قائم کئے بغیر ایک قدم آگے نہیں جاسکتے ۔ جس کے پاس جتنا اختیار ہے اس کو اسی قدر جوابدہ ہوناہے ۔ یوں صدر اور وزیراعظم بھی اختیارات کے معاملے میں جوابدہ ہیں ۔ جعلی ڈگریوں کی تحقیقات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ یہ عمل جاری ہے سیکرٹریز کی سطح پر ذمہ داری دی گئی ہے ۔ ہم چاہتے تھے کہ اے جی آفس یہ کام کرے تاہم ان کا خیال ہے کہ قانون اجازت نہیں دیتا ۔ جعلی ڈگریوں کی چھان بین ہورہی ہے اور جعلی ڈگری ثابت ہونے پر نہ صرف حامل ڈگری فارغ ہوگا بلکہ اس کی تقرری کرنے والے کو بھی قانون کے کٹہرے میں لائیں گے ۔ بعض لوگوں کی پروفیشنل اسناد پر اعتراضات ہیں اور یہ شکایات محکمہ تعلیم ، صحت عامہ اور ٹیکنیکل شعبہ جات میں زیادہ ہیں ۔ تقرریوں کیلئے مجاز اتھارٹی کا فرض ہے کہ وہ اسناد کی تصدیق کرکے تقرری کرے ۔ یہ کوئی طریقہ کار نہیں کہ گریڈ 21تک بغیر اختیار کے تقرری کردی جائے ۔ ہم نے جوابدہی کے عمل کا آغاز کیا ہے ۔ ٹرانسپورٹ پالیسی کی تشکیل نو کررہے ہیں ۔ ایک رپورٹ اس حوالے سے سابق بیوروکریٹ کی تیارکردہ موجود ہے جس پر عمل نہیں ہوا اور ایسا جان بوجھ کر کیا گیا جس کے مفادات پر ضرب پڑتی ہے وہی رکاوٹ ڈالتا ہے ۔ ٹرانسپورٹ پالیسی نافذ کرکے اس پر اوپر سے عمل کریں گے اور صوبائی حکومت کی ٹرانسپورٹ پالیسی لائیں گے وہاں ایڈیشنل سیکرٹری کو کیا ٹرانسپورٹ ملتی ہے یہ سب کو علم ہے ۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ سینئر لوگوں تک کو آئین ، قانون ، رولز اور پالیسی کا علم نہیں اور نہ ہی دلچسپی ہے ۔ ہم گزشتہ دور میں اسمبلی میں دیکھتے رہے ہیں اب تو خیر اپوزیشن کو کام کا علم ہی نہیں ۔ اپوزیشن میں شامل سابق وزراء اعظم اسمبلی میں آتے ہی نہیں اور جو آتے ہیں وہ بیٹھتے نہیں ۔ اب تو خدشہ ہے کہ کہیں ہمارے اندر سے اپوزیشن نہ آجائے ۔ ذاتی طور پر ممبر اسمبلی کیلئے لاء گریجویٹ کی تعلیمی استعداد کا قائل ہوں ۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا کام ہی قانون سازی ہے اور قانون سازی کے لئے لاء گریجویٹ ہونا چاہیے ۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں دیگر معاملات کی گنجائش ہے ۔ ممبر اسمبلی کا کام قانون سازی ہے ٹوٹی نلکے ممبراسمبلی کا کام نہیں مگر ایسا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیرحکومت کا کام پالیسی پر عمل کروانا ہے اس کے علاوہ وزیر کے پاس کوئی اختیار نہیں وزیر حکومت دراصل ایڈمنسٹریٹر ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں تصور ہی کچھ اور ہے ۔ یہاں سیکھنے کا شوق نہیں ۔ وزیر حکومت نے اپوزیشن کے سوالوں کا اسمبلی میں جواب دینا ہوتا ہے گزشتہ اسمبلی میں چوہدری لطیف اکبر اور چند دیگر ممبران کے علاوہ کسی کو کام میں دلچسپی نہیں تھی سب لوگ تقرریوں ،تبادلوں اور ٹھیکوں کے پیچھے بھاگ رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ جعلی اور خلاف میرٹ تقرریوں کی چھان بین انتہائی مشکل کام ہے ۔ گزشتہ پانچ ،دس سال سے یہ رجحان بن چکا ہے کہ لوگ غلط کام کرنا چاہتے ہیں اور غلط کام کو استحقاق سمجھتے ہیں ۔ سرعام حق دار کی حق تلفی کی جاتی ہے اور پھر اس حق تلفی کے دفاع کیلئے سب جمع ہوجاتے ہیں اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے ۔ بعض نیم سرکاری اداروں میں تعینات افسران کی مراعات کا یہ عالم ہے کہ وہاں افسران کی گاڑیاں وزیراعظم سے بڑی ہیں ۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے اس حوالے سے ترجیحات طے کی ہیں جن پر عملدرآمد ہوگا۔ بیماری کی تشخیص کرلی ہے اب علاج میں وقت لگے گا۔ آہستہ آہستہ ہی علاج ممکن ہے ۔ اب تک کے اقدامات سے مطمئن ہیں ۔ حکومتی ٹیم کی صلاحیتوں پر اعتماد ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمانہ کمیٹیوں کے ذریعہ بھرتی ہونے والے سرکاری ملازمین کو بھرتی کے سسٹم سے گزارا جائے گا۔ کسی کو چھوٹ نہیں ملے گی ۔ مادرپدر آزاد اداروں کو قانون کے دائرے میں لاکر جوابدہ بنائیں گے ۔ چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ این ٹی ایس تمام اداروں میں لائیں گے ۔ محکمہ تعلیم سے اس کا آغاز کردیا ہے ۔ نظام تعلیم کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی ضرورت ہے ۔ اس لئے آج کے نصاب کے مطابق وہ ٹیچرز درکار ہیں جو یہ نصاب پڑھا سکیں ۔ جن لوگوں نے نیا نصاب پڑھا نہیں وہ پڑھا کیسے سکتے ہیں ۔ اب جدید دور ہے دنیا آپ کی انگلی کے نیچے ہے ۔ ماضی میں ملازمتوں پر علاقوں ، برادریوں کا اثر رہا۔ جاٹ نے جاٹ ، راجپوت نے راجپوت بھرتی کئے نتیجہ سامنے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام اداروں میں اختیارات کی مرکزیت ختم کرینگے ۔ بلدیاتی اداروں میں سیاسی ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی کے سوال پر سینئر وزیر حکومت نے کہا کہ تاحال اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا ۔ تاہم اگر کابینہ یا پارٹی کی سطح پر اس حوالے سے کوئی فیصلہ ہوا تو اس پر فوری عملدرآمد ہوگا۔ بلدیاتی الیکشن مئی میں ہونگے انتظامات شروع ہیں ۔ اعلیٰ عدالتوں کے احکامات کی روشنی میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد آئینی اور قانونی ضرورت ہے ۔
Scroll To Top