گرلز کالج ڈڈیال میں پرنسپل کی ایما پر موبائل چیکنگ کے نام پر طالبات کو جنسی حراساں کئے جانے کیخلاف طالبات سڑکوں پر نکل آئیں

college-girls

ڈڈیال (بیورو رپورٹ)گورنمنٹ گرلز کالج ڈڈیال کی انتظامیہ شتر بے مہار بن گئی قوم کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا بلڈنگ نامکمل ، صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات ، لیکچرار سکول تو آتی ہے پڑھاتی نہیں ،موبائیل فون کو وجہ بنا کر بلاوجہ پورے جسم کی چیکنگ پرائیویٹ ملازمہ سے کروانا ، مینا بازار ،پرنٹنگ مشین اور میلاد کے نام پر ہزاروں روپے ہڑپ کر لینا ، طالبات پر ناجائز قسم کے الفاظ کسنا ، کالج میں ٹفن لے کر نہ جانے دینا ۔ لمبی سویٹر نہ پہننے دینا ، امتحانات سروں پر، کالج کی پرنسپل کی طرف سے ریگولر داخلہ نہ بھیجنے کی دھمکیوں کے خلاف گرلز کالج ڈڈیال کی بڑی تعداد میں طالبات برہم ہو کر سڑکوں پر نکل آئیں مین سڑک بند کر کے کالج کے سامنے دھرنا دے دیا ٹریفک جام ٹرانسپورٹروں کو شدید مشکلات کا سامنا ، پرنسپل ہائے ہائے میڈیم شازیہ کو معطل کرومعطل کرو شدید نعرے بازی کی گئی ٹریفک پولیس کے اہلکار اور چپڑاسی کو پتھر دے مارے تھانہ پولیس ڈڈیال کی بھاری نفری دھرنے کی جگہ پر پہنچ گئی ڈی ایس پی عطاء الرحمن ، نائب تحصیلدار ، ایڈیشنل ایس ایچ او جاوید الرحمن کی یقین دھانی پر دھرنا ختم کیا گیاایک ہفتے کی ڈیڈ لائن مطالبات نہ مانے گئے تو پورے ڈڈیال شہر کو طالبات نے جام کردینے کی دھمکی دے ڈالی مذاکرات کے دوران کالج کے اندر بھی شدید نعرے بازی کی گئی گورنمنٹ گرلز کالج ڈڈیال کی طالبات نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری آواز کو کوئی سننے والا نہیں مجبوراً سڑکوں پر نکلی ہیں مس شازیہ جو کہ مطالعہ پاکستان کی لیکچرار ہیں وہ کالج میں تو حاضر ہوتی ہیں پر ہمیں مطالعہ پاکستان نہیں پڑھاتی ہیں ان کو فی الفور کالج سے معطل کیا جائے نئی لیکچرار تعینات کی جائے سمیرا نامی لڑکی جو کہ سرکاری ملازمہ ہی نہیں ہم لڑکیوں کو انتقامی کاروائی کی جانے لگیں آج صبح ہم لڑکیوں پر الزام لگایا گیا کہ آپ کے پاس موبائیل فونز ہیں ہمارے پورے جسم کی مس شازیہ اور باہر سے آئی ہوئی میڈم سمیرانے چیکنگ کی ہم پر نازیبا اور گندے گندے الفاظ کسے گئے جو ناقابل برداشت ہیں 3rd yearکی چیکنگ مس ارم نے کی ایک فون بھی ہم سے نہ نکلا کالج کی پرنسپل صاحبہ نے ہم لوگوں سے ہزاروں روپے مینا بازار ، پرنٹنگ مشین میلاد اور جرمانوں کی صورت میں ہزاروں روپے ہڑپ کر لیئے ایک ایک لڑکی سے 50روپے سے لیکر 1000روپے تک لیئے گئے پرنٹنگ مشین ہمارے روپوں سے خریدی گئی پھر بھی ہر کاغذ کے بدلے ہم سے روپے ہڑپ کیے جانے لگے مینا بازار میں لاٹری کا ٹکٹ ہم لڑکیوں کو زبر دستی دیا گیا کالج میں 9سو سے زائد طالبات کی تعداد ہے اگر ان روپوں کو ضرب دی جائے دو لاکھوں بنتے ہیں میلاد کے دن دعا ہوئی سامنے کوئی کھانے کی اشیاء نہ رکھی گئی روپے گئے تو کہاں گئے انکوائری ہونی چاہیے ؟طالبات نے بتایا کہ کالج میں پینے کا صاف پانی تک نہیں ہے واش رومز گندگی سے بھرے ہیں ان کی کوئی صاف ستھرائی نہیں کی جاتی کالج میں گھر سے ٹفن تک لانے کی اجازت نہیں پرنسپل کہتی ہیں جو کچھ خریدنا ہے اندر سے خریدیں لمبی سویٹریں بھی پہننے کی اجازت نہیں دی جا رہی طالبات نے مزید کہا کہ اگر ڈڈیال انتظامیہ یہاں نہ آتی توپر نسپل صاحبہ ہم لوگوں سے مذاکرات کرنے کو تک تیار نہیں تھی بلکہ ہمیں مسلسل دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ اگر اپنا حق مانگا تو داخلہ پرائیویٹ کر دوں گی جو کہ سراسر نا انصافی ہے ہمارے تمام مطالبات کو مانا جائے وزیراعظم آزاد کشمیر ، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر ، وزیر تعلیم سمیت دیگر اعلیٰ حکام فوری نوٹس لیں اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن کے بعد کالج کی تمام لڑکیاں سڑکوں پر ہوں گی حالات کی خرابی کی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت اور انتظامیہ پر عائد ہو گی ۔
Scroll To Top