پبلک سروس کمیشن توڑنا سراسر انصافی،من پسند افراد کوپھر بھی تعینات نہیں ہونے دیں گے:بیرسٹر سلطان

barister

مظفر آباد(کے این آئی) آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم وپی ٹی آئی کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں پبلک سروس کمشن کو جس انداز سے توڑا گیا ہے یہ سراسر نا انصافی ہے اور اداروں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے اور ایک ایسے موقع پر جبکہ بعض امیدواران کے بطور افسر بھرتی کے لئے انٹرویو بھی ہو چکے تھے۔ میری شنید یہ ہے کہ وہ خالصتاً میرٹ پر کامیاب ہو ئے تھے لیکن حکومت شاید من مانی کرکے میرٹ سے ہٹ کر وزراء اور اپنے منظور نظر افراد کو بھرتی کرنا چاہتی ہے۔ اسلئے پبلک سروس کمشن کو توڑا گیا۔ جسکے چئیرمین سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس بھی رہ چکے ہیں۔ یہ عدلیہ کی بھی توہین کے مترادف ہے۔ایک دفعہ پہلے بھی اسی طرح ہوا تھا کہ پانچ سو سے زائد منظور نظر افراد کو بھرتی کیا گیا تھا اور جس پرممبر اسمبلی خالد ابراہیم نے اپنی اسمبلی کی نشست سے احتجاجاً استعفی دے دیا تھا۔میں پبلک سروس کمشن سے کہوں گا کہ جن افسران نے ٹیسٹ دے دیا ہے اس ریکارڈ کو سیل کر دیا جائے تاکہ وقت آنے پر اسے سامنے لایا جا سکے۔ان خیالات کا اظہا انھوں نے آج یہاں مظفر آباد میں پی ٹی آئی کشمیر کے کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس کی صدارت پی ٹی آئی کشمیرمظفر آباد ضلع کے صدر سید جواد گیلانی نے کی جبکہ اجلاس سے سینئر نائب صدر خواجہ فاروق احمد، نائب صدر سردار تبارک علی، نائب صدرمحترمہ پروفیسر تقدیس گیلانی، شعبہ خواتین کی صدرمحترمہ گلزار فاطمہ، راجہ نوید مشتاق، جواد مغل، راجہ مدد ، عدیل میر اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ ہم جہاں حکومت کو وقت دینا چاہتے ہیں۔ جہاں ریاست کے اداروں کو ہی ختم کر دیا جائے وہاں نہ جمہوریت رہ سکتی ہے اور نہ ہی میرٹ پہ کوئی کام ہو سکتا ہے۔اسلئے ہم مطالبہ کرتے ہیں۔ پبلک سروس کمشن کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور اگر کچھ کرنا بھی ہے تو انکے صلاح مشورے سے کیا جائے کیونکہ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ اسمیں اصلاح کا کوئی پہلو ہے تو وہ بھی چئیرمین پبلک سروس کمشن کے مشورے سے حل کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ اعلی صلاحیتوں اور اچھی شہرت کے مالک رکھنے والی شخصیت ہیں
Scroll To Top