برسبین ٹیسٹ میں دلچسپ مقابلے کے بعد آسٹریلیا نے پاکستان کو39 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کرلی

6350f10833ed3b91fa81e68e27a3aa0be8434611

برسبین(یوا ین پی) پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلی جا رہی 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 39 رنز سے شکست دیدی۔ تاہم اسد شفیق کی شاندار بلے بازی نے آسٹریلوی کھلاڑیوں کو پریشان کئے رکھا۔برسبین کے وولین گابا اسٹیڈیم میں جاری ٹیسٹ میچ کے پانچویں روز آسٹریلیا کی جانب سے دیئے گئے 490 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم 450 رنز پر ہمت ہار گئی جو برسبین میں چوتھی اننگز میں کسی بھی ٹیم کا سب سے بڑا سکور ہے۔اس سے قبل انگلینڈ کی ٹیم نے 2006ء کی ایشز سیریز میں 370 رنز سکور کئے تھے۔ پاکستان کاکسی بھی ٹیسٹ کی دو اننگز کے درمیان رنز کا سب سے زیادہ فرق 308 ہے، اس سے قبل پاکستان کا دوسری اننگز کا فرق277رنز تھا ، جب اس نے آسٹریلیا کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 260اور دوسری اننگز میں 537رنز بنائے تھے۔ کھیل مقررہ وقت سے 30 منٹ پہلے شروع ہوا تو اسد شفیق 100 اور یاسر شاہ 4 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود تھے اور پاکستان کو جیت کے لئے 108 رنز درکار تھے جبکہ اس کی دو وکٹیں باقی تھیں۔چھٹی پوزیشن پرشفیق احمد کی مجموعی طور پر یہ 9ویں سنچری ہے جو ایک ریکارڈ ہے، اس سے قبل گیری سوبرز نے اس پوزیشن پر 8سنچریاں اسکور کی تھیں۔میچ کے آخری دن کے آغاز پر بھی اسد شفیق نے شاندار بلے بازی جاری رکھی لیکن جب وہ 137 کے انفرادی اسکور پر پہنچے تو مچل اسٹارک کی تیزی سے اٹھتی ہوئی شارٹ پچ گیند پر ڈیوڈ وارنر کو کیچ دے بیٹھے۔ اسد شفیق کے آؤٹ ہونے کے بعد راحت علی نے یاسر شاہ کو سنگل لے کردیا تاہم مچل اسٹارک کی آخری گیند یاسر شاہ کے بیٹ سے چھو کر سلپ میں گئی تو وہ اپنی کریز سے باہر نکل گئے اور اسٹیون اسمتھ نے پھرتی دکھاتے ہوئے گیند وکٹوں پر دے ماری جس سے ان کی ذمہ دارانہ اننگز بھی 33 رنز پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوگئی اور یوں آسٹریلیا 39 رنز سے کامیاب ہوگیا۔دوسری اننگز میں پاکستان کے دیگر بیٹسمینوں میں اظہر علی 71، یونس خان 65، محمد عامر48اور وہاب ریاض 30رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔آسٹریلیا کی طرف سے اسٹارک نے4اور مجموعی طور پر میچ میں 7 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی جبکہ جیکسن برڈ کے حصے میں 3 وکٹیں آئیں اور ناتھن لائن نے 2 شکار کئے۔ اسد شفیق کو شاندار بلے بازی پر میچ کا بہتری کھلاڑی قرار دیا گیا۔ برسبین ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں آسٹریلیا کے 429 رنز کے جواب میں پاکستان کی پوری ٹیم صرف 142 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی اور آسٹریلیا نے پاکستان کو فالو آن کرانے کے بجائے خود کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ آسٹریلیا نے اپنی دوسری اننگز 202 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کرکے پہلی اننگز کی 287 رنز کی برتری کے ساتھ پاکستان کو جیت کے لئے 490 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف دیا۔آسٹریلیا کے پہاڑ جیسے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم نے ایک بار پھرخود کو غیر متوقع ثابت کیا اور 450 رنز بنا ڈالے۔ وولین گابا میں پاکستان سے قبل چوتھی اننگز میں سب سے زیادہ اسکور 370 تھا جو انگلینڈ نے 2006 ء میں ایشز سیریز کے دوران بنایا تھا جبکہ آسٹریلیا کے کسی بھی میدان میں سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ بھارت کا تھا جو اس نے 78-1977 میں ایڈیلیڈ کے میدان میں چوتھی اننگز میں 445 رنز بنائے تھے لیکن پاکستان نے ان دونوں ریکارڈز کو توڑ ڈالا۔ میچ کا آخری سکور یہ رہا۔ آسٹریلیا 429 اور 202رنز5 کھلاڑی آؤٹ پر اننگز ڈکلیئر۔ پاکستان 142اور450رنز ۔تین ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز کا دوسرامیچ 26دسمبر سے ملبورن میں کھیلا جائے گا۔قبل ازیں برسبین کرکٹ گراؤنڈ وولن گابا میں کھیلے جا رہے ٹیسٹ میچ کا چوتھا روز انتہائی ڈرامائی رہا۔ آسٹریلیا کے 490 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کے 6 کھلاڑی صرف 220 کے مجموعی سکور پر پویلین لوٹ چکے تھے اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ میچ کا فیصلہ آج ہی ہو جائے گا اور پاکستان کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن اسد شفیق، محمد عامر اور وہاب ریاض نے انتہائی ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے قومی ٹیم کو کم از کم شرمناک شکست سے ضرور بچا لیا ہے۔ یونس خان اور اظہر علی نے دوسری نامکمل اننگز کا آغاز 70 رنز 2 کھلاڑی آؤٹ سے کیا اور محتاط بلے بازی کرتے ہوئے مجموعی سکور 131 رنز پر پہنچا دیا تاہم اس موقع پر بارش کے باعث میچ روک دیا گیا۔ آدھے گھنٹے کے وقفے کے بعد کھیل تو دوبارہ شروع ہو گیا تاہم اظہر علی کی اننگز تھم گئی اور وہ 71 رنز بنا کر مچل سٹارک کی گیند پر میتھیو ویڈ کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔پاکستان کے ٹاپ آرڈر کے پویلین لوٹ جانے کے بعد شکست کے بادل مزید گہرے ہو گئے تھیاور اگر بارش کے باعث کھیل مزید نہ روکنا پڑتا تو لگ رہا تھا کہ میچ کافیصلہ آج ہی ہوجائے گا تاہم میچ کا پانسہ پلٹنے لگا اور اظہر شفیق کے ساتھ لوئر آرڈر نے شاندار کارکدگی کا مظاہرہ کیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ گزشتہ روز وسیم اکرم نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان کے سوال پر کہا تھا کہ آسٹریلیا نے جتنا ہدف دیا ہے، اب یہ دعا ہے کہ بارش ہو جائے کیونکہ اگر میچ چلتا رہا تو پاکستان کی شکست کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔برسبین ٹیسٹ کے تیسرے روز کھیل کے اختتام پر پاکستان نے 490 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 70 رنز بنا ئے۔ پاکستان کو جس مضبوط آغاز کی ضرورت تھی، بدقسمتی سے وہ اسے نہ مل سکا اور سمیع اسلم 15 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ 54 کے مجموعی سکور پر بابر اعظم بھی ہمت ہار بیٹھے اور 14 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔قبل ازیں تیسرے روز آسٹریلیا نے دوسری اننگز 5 وکٹوں کے نقصان پر 202 رنز بنا کر ڈکلیئر کر کے پاکستان کو جیت کیلئے 490 رنز کا ہدف دیاتھا۔ پہلی اننگز میں سنچری سکور کرنے والے کپتان سٹیو سمتھ نے 63 رنز بنائے جبکہ عثمان خواجہ نے بھی باؤلرز پر خوب ہاتھ سیدھا کیا اور 74 رنز کی اننگز کھیلی۔ آسٹریلیا کی جانب سے ڈیوڈ وارنر نے 12، میٹ رنشاء4 نے 6، نیس میڈینسن نے 4، پیٹر ہینڈزکومب نے 35 اور میتھیو ویڈ نے ایک سکور بنایا۔پاکستان کی جانب سے پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز میں بھی فاسٹ باولرز نے ہی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اب تک راحت علی نے 2 وکٹیں حاصل کی ہیں جبکہ محمد عامر، یاسر شاہ اور وہاب ریاض نے ایک، ایک کھلاڑی کو پویلین کی راہ دکھائی ہے۔تیسرے روز ہی پاکستان نے 97رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر اپنی نامکمل پہلی اننگز کا آغاز کیا تو سرفراز احمد 31 اور محمد عامر 8 رنز کے ساتھ بیٹنگ کرنے آئے، تاہم محمد عامر21 رنز بناکر کیچ آؤٹ ہو گئے اور پھر راحت علی بھی 4رنزبناکر پویلین لوٹ گئے، اس طرح قومی ٹیم صرف 142 رنز بنا سکی۔ پاکستان کی جانب سے سب سے کامیاب بلے باز سرفراز احمد رہے جنہوں نے 57 گیندوں پر 4 چھکوں کی مدد سے کیرئیر کی 10 ویں نصف سنچری مکمل کرتے ہوئے ناقابل شکست 59 رنز بنائے۔کھیل کے دوسرے روز آسٹریلیا کی پہلی اننگز میں 429 رنز کا پہاڑ دیکھ کر پاکستانی بلے بازوں کی ’’ٹانگیں کانپنا‘‘ شروع ہو گئیں اور صرف 67 کے مجموعی سکور پر 8 کھلاڑی پویلین لوٹ گئے تھے، 6 پاکستانی بلے باز تو دوہرا ہندسہ عبور کرنے میں بھی ناکام رہے۔ پاکستانی بلے باز کریز پر آئے تو یوں واپس جانے لگے جیسے بیٹنگ کرنے نہیں بلکہ صرف پچ کا معائنہ کرنے کیلئے تھے آئے۔ پاکستانی بیٹنگ لائن کی کسمپرسی کا یہ عالم یہ رہا کہ تیسری وکٹ سے آٹھویں وکٹ تک یعنی 5 کھلاڑیوں نے مجموعی سکور میں صرف 24 رنز کا اضافہ کیا جو پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں تیسری سے آٹھویں وکٹ کے درمیان بنایا گیا سب سے کم سکور ہے تاہم آخری 2 وکٹوں میں سرفراز احمد، محمد عامر اور راحت علی نے مجوعی طور پر 75 رنز کا اضافہ کر کے ایک دلچسپ ریکارڈ بھی اپنے نام کیا۔میچ کے دوسرے روز پاکستان نے اپنی پہلی اننگز کا آغاز کیا تو صرف 6 کے مجموعی سکور پر اظہر علی پویلین لوٹ گئے اور پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ پہلے نقصان کے بعد سمیع اسلم اور بابر اعظم نے دوسری وکٹ کی شراکت میں 37 رنز جوڑے اور کچھ امید نظر آئی لیکن بابر اعظم کی وکٹ کے ساتھ ہی ٹوٹ بھی گئی، وہ 19 رنز بنا کر ہمت ہار گئے۔مرد بحران کے نام سے پہچان رکھنے والے یونس خان ٹیم کو مزید بحران میں ڈال گئے اور 43 کے مجموعی سکور پر وہ بھی کھاتہ کھولے بغیر پویلین لوٹ گئے۔ کپتان مصباح الحق بھی حسب روایت کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے اور 4 رنز بنا کر برڈ کی گیند پر رنشاکے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔اسد شفیق نے اس بار بھی مداحوں کو شدید مایوس کیا اور صرف 2 رنز ہی بنا سکے۔ اوپنر سمیع اسلم نے کریز پر ٹھہر کر مزاحمت کی بھرپور کوشش کی تاہم وہ بھی 21 کے انفرادی سکور پر ہمت ہار گئے۔ پریکٹس سیشن میں اپنے ہی ساتھی یاسر شاہ کے خلاف جوش کا مظاہرہ کرنے والے وہاب ریاض اصل میدان میں ’’ٹھس‘‘ ہو گئے اور صرف 1 سکور بنا سکے۔ میچ میں سب سے مہنگے ثابت ہونے والے باولر یاسر شاہ بھی 1 سکور بنا کر چلتے بنے۔ سرفراز احمد نے ناقابل شکست 59 رنز بنائے جبکہ محمد عامر 21 اور راحت علی 4 رنز بنانے میں کامیاب ہو سکے۔آسٹریلیا کی جانب سے مچل سٹارک اور جوش ہیزل ووڈ نے انتہائی پرجوش باولنگ کراتے ہوئے 3,3 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی جبکہ جیکسن برڈ نے 2 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔دوسرے روز کا آغاز میزبان آسٹریلوی ٹیم نے اپنی نامکمل پہلی اننگز 288 رنز 3 کھلاڑی آوٹ سے کیا تو پاکستانی باؤلرز نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے ابتداء4 میں ہی 4 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھا دی تاہم اس کے باوجود مخالف ٹیم 429 رنز کا پہاڑ کھڑا کرنے میں کامیاب ہو گئی۔کپتان سٹیو سمتھ اور پیٹر ہینڈز کومب نے شاہینوں کی خوب دھلائی کرتے ہوئے سنچریاں مکمل کیں۔ دونوں نے بالترتیب 130 اور 105 رنز بنائے۔ دیگر بلے بازوں میں ڈیوڈ وارنر نے 32 عثمان خواجہ 4، رنشا 71، میڈینسن 1 میتھیو ویڈ 7، مچل سٹارک 10، جوش ہیزل ووڈ 8، نیتھن لیون 29 اور جیکسن برڈ 19 رنز بنانے میں کامیاب ہو سکے۔پاکستان کی جانب سے فاسٹ باولرز نے مجموعی طور پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تاہم یاسر شاہ خاطرخواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ محمد عامر اور وہاب ریاض نے 4,4 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی جبکہ یاسر شاہ صرف ایک وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے۔
Scroll To Top