تعلیمی پیکج پر عدالت العالیہ کے فیصلے پر پیپلز پارٹی کا اظہار مایوسی، عدالت العالیہ نے فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف دیدیا :قیادت پیپلز پارٹی آزاد کشمیر

pic-ppp-17

مظفرآباد(پ ر)پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے تعلیمی پیکج پر عدالت العالیہ کے فیصلے پر مایوسی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت العالیہ نے ہماری واضح نکات کو زیر غور نہیں لایا ہم نے رٹ پٹیشن میں قانونی کی بات کی ہے پالیسی پر بات نہیں کی تھی عدالت العالیہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف دیدیا سپریم کورٹ کے فیصلے کو کوئی بھی عدالت العالیہ زیر غور نہیں لاسکتی، اس طرح اسمبلی منظور کردہ قانون اور فیصلوں بشمول بجٹ کو کابینہ منسوخ تبدیل نہیں کر سکتی عدالتی فیصلے نے حکومت کو یہ اختیار دیدیا گیا ہے کہ وہ اپنے مخالف دوکرز کے ادارے منسوخ کرے عدالت العالیہ کا فیصلہ انصاف کے تقاضے کے مغائر ہے عدالت العالیہ ہی میرے اور سابق وزراء میاں وحید ،مطلوب انقلابی کے علاوہ والدین اور طلبا کیطرف سے رٹ پٹیشن دائر کی گئی تھیں قانون ساز اسمبلی تعلیمی پیکج کے تحت اداروں کی اپ گریڈیشن آسامیوں کی تخلیق کو بجٹ سمیت منظوری دی تھی جس کوئی کوبینہ منسوخ ترمیم نہیں کر سکتی پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے مرکزی سیکرٹری جنرل وسابق وزیر خزانہ چوہدری لطیف اکبر نے پارٹی رہنماؤں وکارکنان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن نے بیان دیا کہ تعلیمی پیکج درست ہے اسی نے اس بار بار بیان دیا کہ غلط ہے کیا ایسے آفیسر کے بیان پر عدالت العالیہ کو یقین کرنا چاہیے ہر حکومت ادارے بنانے کے بجائے ادارے ختم تباہ برباد کرنے پر تسلی ہے یونیورسٹیاں میڈیکل کالجز ختم کرنے کیلئے بھی کمیٹیاں بنائی گئی ہیں ایک سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کے خلاف انکوائری کیلئے سول جج کو انکوائری کمیٹی بنا دیا اور ایسا آرڈیننس جاری کر دیا کہ جس نے اپنی مرضی سے من پسند افراد کو تعینات کیا جاسکتا ہے موجودہ حکومت نظام ملیا میٹ کرنے پر چل نکلی ہے مگر ہم غریب متوسط طبقات عوام طلبا کے حقوق کیلئے آخری حد تک جائینگے آئین قانون کے تحت عوامی فیصلوں پر رائے دی جاسکتی ہے سپریم کورٹ اس عدالت العالیہ کے فیصلے کیخلاف رجوع کرینگے سپریم کورٹ میں عدالت العالیہ کے فیصلے کے خلاف رجوع کرینگے ،سپریم کورٹ کے فیصلیرائے ڈائریکشن کے مطابق سروس ٹریبونل میں تاخیر کر کے توہین عدالت کیجارہی ہے
Scroll To Top