تعلیمی پیکج،ہائیکورٹ نے تمام رٹ پٹیشنزخارج کر دیں،حکومت خود فیصلہ کرے:ریمارکس

مظفرآباد(کے این آئی)عدالت العالیہ نے کابینہ کے فیصلہ جس کی رو سے تعلیمی پیکج پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا کے خلاف دائر تمام رٹ پیٹیشنز خارج کر دی ہیں۔ فل کورٹ چیف جسٹس عدالت العالیہ جسٹس غلام مصطفی مغل ، سینئر جج جسٹس ایم تبسم آفتاب علوی، جسٹس اظہر سلیم بابر، جسٹس محمد شیراز کیانی، جسٹس صداقت حسین راجہ پر مشتمل تھا نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ عدالت پالیسی میکرز کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتی۔ حکومت کے اختیار میں ہے کہ وہ انتظامی اور پالیسی سے متعلقہ فیصلہ کرے اور پہلے سے کئے گئے فیصلہ جات میں ترمیم و تنسیخ کرے یا واپس لے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ اچھی حکمرانی کا تصور اچھے اور پائیدار فیصلوں پر ہوتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ حکومتی پالیسیوں میں تسلسل ہونا چاہئے۔ اور اس کا پھل عام آدمی تک پہنچنا چاہئے۔ عدالت نے متفقہ فیصلہ میں ہدایت کی ہے کہ حکومت کو ہر کیس کا انفرادی جائزہ لے کر فیصلہ کرنا چاہئے۔ عدالت نے قرار دیا چونکہ حکومت کے وکیل نے اس امر کا اقرار کیا ہے کہ حکومت تعلیمی پیکج کو ختم نہیں کرنا چاہتی اس لئے ان معاملات پر رائے دینا جو انکوائری سے متعلق ہیں عدالت مناسب نہیں سمجھتی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایک مظبوط بیورو کریسی ریاست کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔عاملین ریاست کو قانون سے مغائر احکامات کی بھر پور طریقے سے نشاندہی کرنا چاہئے اور ان پر عمل درآمد سے انکار کرنا چاہئے۔اس تاریخی مقدمے میں سائیلان کی طرف سے بیرسٹر ہمایوں نواز ایڈووکیٹ اور حکومت کی طرف سے راجہ محمد حنیف خان ایڈووکیٹ نے پیروی کی۔
Scroll To Top