حکومت آزاد کشمیر نے متنازعہ اور غیر آئینی پبلک سروس کمیشن کو تحلیل کر دیا

ajk logo

مظفرآباد(کے این آئی)حکومت آزاد کشمیر نے متنازعہ اور غیر آئینی پبلک سروس کمشن کو تحلیل کر دیا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر پبلک سروس کمشن کو برطرف کرنے کا باضابطہ نوٹیفیکشن جا ری کر دیا گیا ہے۔ موجودہ پبلک سروس کمشن کو پی ایس سی ترمیمی ایکٹ کے مغائر قرار دیاگیا ہے۔ حکومت آزاد کشمیر کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفیکشن کے مطابق چیئر مین پی ایس سی خواجہ شہاد احمد، ممبران خواجہ محمد سلیم بسمل، منظور احمد کیانی، محمد سعید مغل، چوہدری غلام مصطفی، اسلم ظفر، محمد کبیر چغتائی، خورشید احمد راٹھور،رافعہ شرین اور جمیل اعظم کو برطرف کر دیا گیا ہے ۔ نوٹیفیکشن میں کہا گیا ہے کہ موجودہ پبلک سروس کمشن کی طرف سے امتحانات کے دوران مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا گیااور ناجائز اقدامات اٹھائے جاتے رہے۔ اور انتہائی غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے رہے۔ نوٹیفیکشن میں کہا گیا ہے کہ موجودہ پبلک سروس کمشن کی طرف سے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جاتا رہا۔ پی ایس سی کے اقدامات شفافیت کے صریحا مغائر تھے۔ واضح رہے سابق دور حکومت میں پبلک سروس کمشن سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر کے تاریخ ساز فیصلے کے بعد تحلیل کر دیا گیا اور جو نیا پبلک سروس کمشن تشکیل دیا گیا وہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مغائر تھا۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے تاریخی فیصلے میں آزاد کشمیر مین وفاق یا پنجاب کی طرز پر پبلک سروس کمشن کی تشکیل اور اس کے لئے قانون سازی کا حکم دیا تھا لیکن سابق حکومت نے ریاست کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلے کے مغائر قانون سازی کی اور اس کے فیصلے کے خلاف پی ایس سی کی تشکیل عمل میں لائی۔جس پر سابق حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست عدالت العالیہ مین زیر کار تھی اس درخواست پر گزشتہ روز یعنی 16دسمبر کو حتمی بحث سماعت ہونی تھی۔ حکومت آزاد کشمیر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مغائر تسکیل دئے گئے پبلک سروس کمشن کو برطرف کر دیا۔ موجدوہ پبلک سروس کمشن کی طرف سے انتظامی آسامیوں پر انٹرویوز کے دوران سنگین بدعنوانیوں کے الزامات سامنے آئے ۔ پی ایس سی کی طرف سے امتحانات میں ٹمپرنگ کا معاملہ اعلیٰ عدلیہ میں گیا ۔ سپریم کورٹ نے چیلنچ کئے گئے پرچہ انگریزی بی میں ٹمپرنگ کی وجہ سے یہ پرچہ دوبارہ لینے کا حکم دیا ۔ بعد ازاں انکشاف ہوا کہ پی ایس سی کی طرف سے اسسٹنٹ کمشنر ، اے ایس پی اور سیکشن آفیسر کی آسامیوں پر امیدواران سے جو پرچہ جات لئے گئے ہیں سب میں ٹمپرنگ کی گئی ہے جس کا حکومتی سطح پر سخت نوٹس لیا گیا ۔حکومت آزاد کشمیر کی طرف سے متنازعہ پی ایس سی کی تحلیل کے لئے چیف جسٹس ہائی کورٹ کو دفعہ 6کے تحت ریفرنس ارسال کیا گیا ۔ جس کے تحت ہائی کورٹ کے ایک جج کے ذریعے انکوائری کر کے اس پی ایس سی کو تحلیل کیا جانا تھا لیکن حکومت آزاد کشمیر نے ریفرنس واپس لے کر متنازعہ پی ایس سی کو برطرف کر دیا۔جس کا باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
Scroll To Top