دہشتگردی کے مکمل خاتمے اورجب تک سانحہ اے پی ایس پشاور کے ہر بچے کے خون کا حساب نہیں لے لیتے تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، آرمی چیف

bajwa

پشاور(یوا ین پی)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ میرا اور پاک فوج کا عزم ہے کہ جب تک سانحہ اے پی ایس پشاور کے ہر بچے کے خون کا حساب نہیں لے لیتے اور پاکستان سے دہشت گردی کا قلع قمع نہیں کر دیتے اور پاکستان کو دوبارہ امن کا گہوارہ نہیں بنا دیتے ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے، رسولؐ نے امت اسلامیہ کا جو خواب دیکھا تھا اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے جو خواب دیکھا تھا اس کی روح کے مطابق ہم نے پاکستان کو ایک پر امن اسلامی مملکت بنانا ہے تمام پاکستانی قوم،فوج اور ادارے شہداء کے لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں مسلح افواج عوام کے تحفظ کی ضامن ہے اور اسے عوام کا تعاون درکار ہے، ہماری کوشش ہے جلد از جلد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا خاتمہ ہو اور پاکستان پھر سے ایک پر امن اور خوبصورت ملک بن سکے۔ ہم پر شہید بچوں کاخون قرض ہے اور جو 22 ہزار لوگ شہید ہوئے ان کا خون قرض ہے۔ان خیالات کا اظہار آرمی چیف نے پشاور میں سانحہ آرمی پبلک سکول کی دوسری بری کے موقوع پر منعقدہ تقریب سے خطاب میں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اے پی ایس واقعہ ایک کاری ضرب تھی جو ہمارے دل اور جگر پر لگی اور اس نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا لیکن دشمن ہمارے جذبہ ایمانی کو اور ہماری دہشت گردی کے خلاف جدوجہد سے ہمیں ہٹانے میں بالکل کامیاب نہیں ہوئے، بطور آرمی چیف اور بطور لوگوں کے ایک نمائندہ کے میرا یہ عزم ہے اور پاکستانی فوج کا بھی عزم ہے کہ جب تک ہم ہر بچے کے خون کا حساب نہیں لے لیتے جب تک پاکستان سے دہشت گردی کا قلع قمع نہیں کر دیتے پاکستان کو دوبارہ سے امن کا گہوارہ نہیں بنا دیتے ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے ہم پر بچے کا خون قرض ہے تمام 22 ہزار لوگ جو شہید ہوئے ان کا خون قرض ہے ان کا کہنا تھا کہ جیسے رسول پاک ؐنے امت اسلامیہ کا خواب دیکھا ہے اور جیسے قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے خواب دیکھا تھا اسی کی روح کے مطابق ہم نے پاکستان کو ایک پر امن اور اسلامی مملکت بنانا ہے۔اس تمام جدوجہد میں بہت قربانیاں آئی ہیں اور قربانیاں ہوئی ہیں ان بچوں کو ہم بھلا نہیں سکتے میرے دفتر میں بھی ان بچوں کی تصاویر موجود ہیں اور جنرل راحیل شریف نے بھی اپنے دفتر میں ان بچوں کی تصاویر رکھی ہوئی تھیں میں بھی ان کو گاہے بگاہے دیکھتا رہتا ہوں تاکہ میرا جذبہ اور میری قوت نہ ڈگمگائے، ان کا کہنا تھا کہ میں بھی ایک والد،بھائی اور شوہر ہوں اور میرے بھی بچے ہیں میں ان والدین کا درد سمجھ سکتا ہوں اور وہ درد یقینی طور پر قابل برداشت نہیں ہے۔ان کا یواین پی سے کہنا تھا کہ ہما را یقین ہونا چاہیے جو یہاں سے شہید ہو چکے ہیں وہ یہاں سے بہتر جگہ پر موجود ہیں۔ جنت الفردوس میں موجود ہیں وہ زندہ ہیں مگر ہمیں ان کا شعور نہیں ہے گزشتہ سال بھی ہم نے تقریب منعقد کی تھی اور آج بھی قرآن خوانی کی ہے ا س کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں یاد رہے کہ ہمارا کتنا خون یہاں بہایا گیا تاکہ ہم ان بچوں کی قربانی کو بھولیں نہ اور راستہ سے نہ بھٹکیں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ تمام پاکستانی قوم، تمام پاکستانی فوج اور تمام ادارے لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں ہم پوری کوشش کریں گے کہ ان کے درد کا کچھ مداوا کر سکیں جو زخم ہے وہ بہت گہرا ہے۔میں جانتا ہوں کہ زخم کو مکمل طور پر بھرنا ممکن نہیں تاہم اس طرح کے اجلاس بلا کر قرآن خوانی کر کے ان بچوں کو یاد کر کے کچھ مرہم پوشی اور کچھ گھاؤ کم ہو سکتا ہے یہ ہماری جدوجہد اور کوشش جاری رہے گی ہم نے دنیاوی طور پر بھی کچھ کام کیے ہیں تاکہ ورثاء اور والدین کا کچھ مداوا ہو سکے اور یہ ہم آگے بھی جاری رکھیں گے شہید بچوں کے بہنوں اوربھائیوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلوائیں گے اور اس کے لیے شہداء کے لواحقین ہمیشہ آگے پائیں گے ہم کوشش کریں گے جو تعلیم وہ حاصل نہیں کر سکے اس کے بہن بھائی وہ حاصل کریں اور معاشرے میں ایک اعلیٰ مقام پا سکیں میں یقین دلاتا ہوں جو بھی ہمارے بس میں ہوگا وہ کریں) گے ان کا کہنا تھا کہ مسلح افواج عوام کے تحفظ کی ضامن ہے اور اسے عوام کا تعاون درکار ہے۔ہماری پوری کوشش ہو گی کہ اس جنگ کا جلد سے جلد خاتمہ کیا جائے تاکہ پاکستان پھر سے پر امن اور خوبصورت ملک بن سکے ۔ان کا کہنا تھا کہ اﷲ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں حوصلہ دے اور جن کے بچے،بہن،بھائی،شوہر شہید ہوئے اﷲ تعالیٰ انہیں صبر جمیل عطاء فرمائے۔
Scroll To Top