حکومتی فیصلے سے مطمئن نہیں،قومی تعلیمی پالیسی کے نفاذ سے قبل اساتذہ کو اعتماد میں لیا جائے: سکولز ٹیچرز آرگنائزیشن

ajk-assembly

میرپور(نامہ نگار)چوہدری محمد منیر ناز مرکزی سیکرٹری جنرل آزادکشمیر سکولز ٹیچرز آرگنائزیشن نے میڈیا کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزادکشمیر سکولز ٹیچرز آرگنائزیشن کے تمام مرکزی، ڈویژنل، ضلعی، تحصیل ہا اور ممبران مجلس عاملہ کا ہنگامی اجلاس گزشتہ روز زرعی ماڈل ہائی سکول راولپنڈی منعقد ہوا جس میں عہدیداران و ممبران مجلس عاملہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس سے جاوید احمد مرزا، محمد نعیم خان، محمد رفیق، راجہ واجد علی خان، محمد خلیل خان، چوہدری محمد امین، سید محسن گردیزی، راشد محمود، مشتاق راجہ، ملک حبیب الرحمن، قاری محمد قاسم، قاری محمد جمروز، پنو خان شوکت، سردار محمد وحید خان، راجہ زاہد حسین، محمد سخاوت غوری، محمد حفیظ خان، محمد الیاس، اصغر علی، عبدالرشید شاکر مرکزی نائب صدر، مطلوب حسین بزمی، مرکزی صدر سردار سجاد احمد خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ تعلیم آزادکشمیر کی جانب سے اساتذہ آزادکشمیر کیلئے جاری کردہ نئے رولز 2016ء کو مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیر اور وزیر تعلیم سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ رولز 1994ء کے تحت پرائمری و جونیئر، سینئر و ماہر مضمون اساتذہ کی ترقیابی کا کوٹہ حسب سابق بحال رکھاجائے اور نئے ترمیمی رولز 2016ء جس کا نوٹیفکیشن 22نومبر 2016ء کو جاری کیا گیا ہے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اساتذہ کے ترقیابی کے حوالہ سے سابقہ کوٹہ بحال رکھا جائے ٹیچرز آرگنائزیشن کے عہدیداران، محکمہ تعلیم کے بالا افیسران، وزارت تعلیم کی قیادت میں اعلیٰ سطحی اجلاس بلا کر وزیراعظم آزادکشمیر اساتذہ کے رولز1994ء اور ترمیمی رولز 2016ء کا تفصیلی جائزہ لیں اساتذہ قائدین نے کہا کہ ہم عرصہ چھ سال سے قومی تعلیمی پالیسی 2009کے مکمل نفاذ اور اساتذہ کے طے شدہ نئے رولز، اساتذہ کی اپ گریڈیشن، ہائیر سکینڈری سکولز سکیم کے نفاذ کا پرزور مطالبہ کرتے رہے ہیں سابقہ حکومت نے عرصہ تین سال سے نیا نصاب رائج کر دیا تھا اساتذہ کے طے شدہ نئے رولز کی فائل زیر کار تھی اب جبکہ موجودہ حکومت نے قومی تعلیمی پالیسی 2009کی روشنی میں پرائمری اساتذہ کی بھرتی کیلئے تعلیمی قابلیت بی اے، بی ایڈ، اے ڈی ای سکینڈ ڈویژن اور این ٹی ایس کا نفاذ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کی بھرپور تائید سول سوسائٹی اور ٹیچرز آرگنائزیشن نے بھی کی ہے،ترقیابی کے منتظر 25،25سال پرانے پرائمری و جونیئر و سینئر اساتذہ کا کوٹہ رولز 2016ء میں کم کرتے ہوئے بل ترتیب  25,25،60فیصد مقرر کیا گیا ہے جو پرانے اساتذہ کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے قومی تعلیمی پالیسی 2009ء کی رو سے جہاں پرائمری اساتذہ کی آئندہ بھرتی این ٹی ایس اور بی اے، بی ایڈ کی بنیاد پر کی جانے ضروری ہے وہاں ان کو سکیل B-7کی بجائے B-14عطا کیاجانا ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2009ء کے تحت پرائمری اساتذہ کو سکیل B-7کی بجائے B-14جونیئر کو B-9کی بجائے B-16اور سینئر کو B-16کی بجائے B-17بنیادی سکیل دیا جانا قومی تعلیمی پالیسی کا حصہ ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پہلے مرحلہ میں فوری طورپر وزیراعظم آزادکشمیر، وزیر تعلیم اور چیف سیکرٹری آزادکشمیر کو نئے رولز 2016ء کے نفاذ سے پہلے محکمہ تعلیم کے بالا آفیسران کی موجودگی میں ٹیچرز آرگنائزیشن کو اعتماد میں لینے کیلئے ایک ہفتہ کے اندر ایک اعلیٰ سطح اجلاس وزیرتعلیم کی قیادت میں بلایا جائے۔ اگر ایک ہفتہ کے اندر اعلیٰ سطحی اجلاس بلا کر اساتذہ آزادکشمیر کو نئے رولز 2016ء کے نفاذ کے سلسلہ میں اعتماد میں نہ لیا گیا تو ایک ہفتہ کے بعد اساتذہ آزادکشمیر اپنے حقوق کیلئے راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہونگے۔ پہلے مرحلہ میں سیاہ پٹیاں باندھ کر پرامن احتجاج کیاجائیگا، دوسرے مرحلہ میں علامتی بھوک ہڑتال کی جائے گی اور اگر پھر بھی معاملہ حل نہ ہوا تو تیسرے مرحلہ میں تادم مرگ بھوک ہڑتال کر کے اساتذہ قومی تعلیمی پالیسی 2009ء کی روشنی میں طے شدہ اپنے حقوق حاصل کرنے کیلئے بھرپور احتجاج کرینگے۔ اس احتجاج کیلئے تمام ضلعی صدور کو ضلع میں اور تمام تحصیل صدور کو تحصیل ہا میں چیئرمین ایکشن کمیٹی مقرر کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والے مرکزی، ڈویژنل، ضلعی اور تحصیل عہدیداران کو سردار عارف شاہین سابق صدارتی امیدوار اور ان کے پینل میں کامیاب اور مرکزی قائدین کے ساتھ رولز 1994کے تحت طے شدہ ترقیابی کے کوٹہ کی بحالی کیلئے یکجا ہو کر تحریک چلانے اور اساتذہ آزادکشمیر کے وسیع تر مفاد میں ایک پلیٹ فارم سے آواز بلند کرنے کے فیصلے کیے گئے۔

Scroll To Top