تھانہ پولیس سیکرٹریٹ کے ستائی خاتون اپنی فریاد لے کر صحافیوں کے پاس پہنچ گئی، اے ایس آئی شہید الرحمان نے اپنی ذاتی رنجش کی بناء پر میرے خاوند اور بیٹوں کو منشیات فروش قرار دے دیا ،گھر میں گھس کر شدید تشدد کا نشانہ بھی بنایا،

pic_tashadad_police_

مظفرآباد (پ ر)تھانہ پولیس سول سیکرٹرٹ کے اے ایس آئی شہید الرحمان نے اپنی ذاتی رنجش کی بناء پر میرے خاوند اور بیٹوں کو منشیات فروش قرار دے دیا ۔ تھانہ پولیس سیکرٹریٹ کے ستائی خاتون اپنی فریاد لے کر صحافیوں کے پاس پہنچ گئی ،شہزادی بیگم زوجہ تسلیم خان سا کنہ اپرچھتر نے اپنے اور اپنے اہل خانہ پر تھانہ پولیس کی طرف سے ڈھائے گے مظالم کی داستان سناتے ہوئے بتایا ہیکہ وہ اپنے بچوں سمیت گھر میں سوئی ہوئی تھی تھانہ سول سیکرٹریٹ کے ایس ایچ اوپرویز حمید ،شہید الرحمان اے ایس آئی و اجمل عباسی و دیگر 20 سے 25 افراد پر مشتمل نفری سمیت رات کی تاریکی میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے ہمارے گھر میں گھسے مجھے اور میرے بیٹوں کو جگا کر مار نا پیٹنا شروع کر دیا ۔میری بیٹی ثناء بی بی کے بازو کندھے اور پیٹھ پر شدید ضربات لگائی گئیں اس کے علاوہ کسی تیز دھار آلہ سے وار کر کے شدید زخمی کر دیا ۔شہزادی بیگم نے بتایا کہ میری دوسری بیٹی تانیہ بی بی کے جسم پر ڈنڈوں اور لاتوں مکوں سے مارنے پیٹنے کے ساتھ ساتھ ناجائز گالیاں نکالیں جو کہ کسی عزت دار شہری کی بے حرمتی کہلاتی ہے ۔شہزادی بیگم نے بتایا کہ میرا خاوند جو کہ فالج کا عرصہ 10 سال سے مریض ہے کو بیٹوں وسیم مغل اور مقیم خان کو مار تے اور گالیاں دیتے ہوئے گرفتار کر کے لے گئے میں جب تھانہ پولیس سول سیکرٹریٹ میں پتہ کرنے گئی تو وہاں پر پولیس نے مجھ سے دو لاکھ پچاس ہزار روپے کی ڈیمانڈ کی اور ان کی جان بخشی کا وعدہ کیا جس پر میں نے پیسے دینے مناسب سمجھے اور ان کو پیسے لا کر دئیے جس کے بعد ان نے ان کو دوبارہ مارنا پیٹنا شروع کر دیا ۔ اور شہزادی بیگم نے بتایاجب گھر پہنچی تو ڈی ایف سی تھانہ صدر محمد صدیق اورطفیل مغل گھر آئے کہنے لگے آپ کا بیان قلمبند کرنے ہیں 10 ہزار دو تو آپ کے حق میں بیان لکھ دیں گے ورنہ ان کے کھاتے میں منشیات جو ڈالی گئی ہے اس کی تعداد دوگنی بھی ہو سکتی ہے شہزادی بیگم نے صحافیوں کو بتایا کہ میرے بیٹوں سے نہ کوئی منشیات برآمد ہوئی ہے اور نہ ہی وہ ایسا کاروبار کرتے ہیں میرا بیٹا وسیم مغل ٹھیکیداری کا کام کرتا ہے تھانہ کے اے ایس آئی شہید الرحمن 2013 ء میں میرے بیٹے سے 2 ہزار فٹ شیٹرنگ لے کرگیا تھا جو ابھی تک واپس نہیں کی ۔جب بھی میرا بیٹا شیٹرنگ کی واپسی کا مطالبہ کرتا تو شہید الرحمان کہتا کہ نہ کرو بچوو میں تمہیں ایسی پھینٹی لگاؤ گا کہ تم اپنی شیٹرنگ کیا ٹھیکیداری بھی بھول جاؤ گے ۔ انہوں کا کہنا تھا کہ پولیس نے جس بے دردی سے ہمارے گھر کا سامان اور کھڑکیوں کے شیشے توڑے اس درندگی کی مثال نہیں ملتی ۔میں نے تھانہ پولیس سول سیکرٹریٹ کے خلاف عدالت میں مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے جو زیر کار ہے اس کے علاوہ اعلی ٰ پولیس حکام کو انصاف کی فراہمی کے لئے درخواستیں بھی دے رکھی ہیں ۔شہزادی بیگم نے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان ، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہیکہ میرے اور میرے خاندان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس کی جانچ پڑتال کرکے مجھے اور میرے اہلیخانہ کو انصاف فراہم کیا جائے بصورت دیگر میں اور میرے اہلیخانہ راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہوں گے ۔
Scroll To Top