نہتے کشمیریوں پر بھارتی فورسز کے مظالم جاری ، بھارتی فوج نے جعلی مقابلوں میں 3کشمیری شہید کردیئے

Indian police chase Kashmiri protesters during a strike called by separatist groups against the recent killings in south Kashmir which they say were carried out by Indian security forces, in Srinagar September 21, 2013. REUTERS/Danish Ismail (INDIAN-ADMINISTERED KASHMIR - Tags: CIVIL UNREST)

سرینگر(یوا ین پی)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور قبضے کیخلاف ہڑتال کا سلسلہ139ویں روز بھی جاری رہا،نہتے کشمیریوں پر بھارتی فورسز کے مظالم جاری ، بھارتی فوج نے جعلی مقابلوں میں 3کشمیری شہید کردیئے،حریت رہنماوں کی اپیل پر نماز جمعہ کے بعد پوری وادی میں شدید احتجاجی مظاہرے کیے گئے، مسلمانوں کو نماز جمعہ ادا کرنے سے ایک بار پھر روک دیا گیا،حریت کانفرنس کی اپیل پر جمعہ کوآزادی کے لئے دعاوں کادن منایاگیا، رہنماوں کی اپیل پر مقبوضہ کشمیر میں جاری احتجاج میں یکم دسمبرتک توسیع کی گئی ہے،مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر بھارتی فورسز کے مظالم جاری ہیں، بھارتی فوج نے جعلی مقابلوں میں 3کشمیری شہید کردیئے،حریت رہنماوں کی اپیل پر نماز جمعہ کے بعد پوری وادی میں شدید احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔مقبوضہ وادی میں کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم کا سلسلہ جاری ہے اور ضلع بارہ مولا اور باندی پورہ میں بھارتی فوج نے مزید 3کشمیریوں کو شہید کردیا ہے۔کشمیری میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے کشمیریوں کو شہید کرکے مقابلوں کا ڈرامہ رچایا ہے۔حریت کانفرنس کی اپیل پر جمعہ کوآزادی کے لئے دعاوں کادن منایاگیاجبکہ نمازجمعہ کے بعداحتجاجی مظاہرے کیے گئے، رہنماوں کی اپیل پر مقبوضہ کشمیر میں جاری احتجاج میں یکم دسمبرتک توسیع کردی گئی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور قبضے کیخلاف ہڑتال کا سلسلہ139ویں روز بھی جاری رہا۔پلوامہ میں بھارتی فورسز ،ور ٹاسک فورس کی طرف سے نیوہ میں محاصرے کے دوران مزاحمت ہوئی،جس کے دوران سنگبازی اور شلنگ کے علاوہ ہوائی فائرنگ بھی ہوئی۔اس دوران نیوہ،ہانجی پورہ،بانڈی پورہ،سوپور اور ہندوارہ میں خشت باری کے واقعات رونما ہوئے جس کے دوران پولیس کی گاڑیوں کے شیشوں کو چکنار کیا گیا۔حریت قیادت کے احتجاجی کلینڈر کے تحت جمعہ کو بھی 139روز بھی مکمل ہڑتال سے نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔شہر میں تمام دکانیں ، کاروباری ادارے بند رہے اور سرکاری وغیر سرکاری دفاتر اور اسکولوں وکالجوں میں معمول کے کام متاثر رہا ۔ پائین شہر کے علاقوں میں ہڑتال تھی اور سڑکوں پر ٹریفک کی نقل وحرکت بند تھی ۔ پائین شہر میں واقع تاریخی جامع مسجد کے محاصرے کو بدستور جاری رکھا گیا اوراس کے دورازے بدستور مقفل رکھے گئے،نماز جمعہ بھی ادا نہ کی جاسکی ۔ادھربانڈی پورہ میں مکمل ہڑتال کے بیچ کئی علاقوں میں فورسز اور پولیس کو تعینات کیا گیا تھا۔ ہڑتال کی وجہ سے دکانیں بند رہیں جبکہ تجارتی اور کاروباری مراکز کے علاوہ اسکول بھی مقفل رہے تاہم سڑکوں پر نجی ٹرانسپورٹ سمیت چھوٹی مسافر بردار گاڑیون کی روانی بھی جاری رہی۔اس دوران قصبے میں وارڑ آفس کے سامنے سی آر پی ایف نے گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی ہے اور زبردست شلنگ کی ۔ عینی شاہدین کے مطابق ڈھائی بجے سی آر پی کی پارٹی بورڑ آفس نوپورہ کے سامنے پیدل گزر رہی تھی اس دوران ان پر سنگبازی ہوئی،جس کے جواب میں سی آر پی ایف نے زبردست ٹیر گیس شلنگ کی اور گزر رہی کی گاڑیوں کی ڈنڈوں سے توڑ پھوڑ ۔ گلشن چوک میں دس بجے معمولی پتھراو کا واقعہ پیش آیا تاہم ضلع بھر میں حالات خوشگوار رہے ہیں۔جنوبی قصبہ پلوامہ کے نیوہ علاقے میں جمعہ نماز کے بعد اس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب بھاری تعداد میں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے نعرے بازی کی ،سڑکوں پر نکل آنے والے نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے ٹیر گیس شلنگ اور ہوائی فائرنگ کی۔مظاہرین نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی ۔ پولیس و فورسز نے نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے ان کا تعاقب کیا جس پر نوجوان مشتعل ہوئے اور انہوں نے سنگباری شروع کر دی ۔مشتعل ہجوم کومنتشر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے ٹیر گیس کا بے تحاشا استعمال کیا جبکہ ہوا میں گولیوں کے چند رونڈ بھی فائر کئے جس سے علاقے میں افرا تفری اور خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا ۔ادھر پلوامہ میں ہانجی پورہ رتنی پورہ میں بھی فوج،فورسز اور ٹاسک فورس نے مشترکہ طور پر علاقے کو محاصرے میں لیا جس کے دوران گھر گھر تلاشیاں شروع کی گئی۔ضلع پلوامہ کے اکثر علاقہ جات اور ترال میں بعد سہ پہر تک مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمولات کی زند گئی بری طرح متاثر رہی۔بارہمولہ میں بھی مکمل ہڑتال رہی اور لوگوں نے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی۔کولگام بھی ہڑتال سے زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔
Scroll To Top