وزیر اعظم آزادکشمیر اور بیرسٹر سلطان کا کشمیر کاز کیلئے مل کر جدوجہد کرنے پر مکمل اتفاق

brester-and-farooq

اسلام آباد(کے این آئی)کشمیر کاز کے اصل فریقین کشمیر ی ہیں۔بین الاقوامی دُنیا کشمیر کاز پر پاکستان کی نہیں کشمیریوں کی بات سُننا چاہتی ہے۔اس لیے کشمیری قیادت کو بین الاقوامی سطح پر بات جیت کے مواقعے ملنے چاہیں۔اس سے کشمیر پر پاکستانی موقف مضبوط ہو گا۔کشمیر کاز کے لیے ہم سب اکھٹے ہیں اور مل کر دُنیا بھر میں کشمیر کے لیے جدوجہد کریں گے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر اور سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا کشمیر کے لیے ایک ساتھ مل کر جدوجہد کرنے پر مکمل اتفاق ۔موجودہ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کی طرف سے سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی کشمیر کاز کے لیے خدمات کابر ملا اعتراف،بیر سٹر سلطان محمود چوہدری کا دیوار برلن کی طرح لائن آف کنٹرول توڑنے کا اعلان پاکستان کو بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں پر منہ توڑ جواب دینے کی تجویز،نیلم بس پر راکٹ حملہ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی شہادتوں کی بھرپور مذمت،نیز پاکستان کی معذرت خوانہ کشمیر پالیسی پر تنقید ،تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز نجی ٹی وی کے ایک انٹرویو کے دوران کشمیر پی ٹی آئی کے صدر و سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور آزاد کشمیر کے موجودہ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا کہ کشمیری قیادت کشمیر ایشو پر ایک پلیٹ فارم پر کھڑی ہے۔کشمیر کاز پر ہمارے درمیان کو ئی اختلاف نہیں۔کشمیر کے اصل فریق کشمیری ہیں ۔اگر بین الاقوا می سطح پر کشمیری قیادت کو بات چیت کا موقعہ دیا جائے تو اس کے بہت اچھے نتائج نکلیں گے۔کیونکہ دنیا کشمیر کاز پر صرف کشمیریو ں کی بات سُننا چاہتی ہے۔بھارت اعددی لحاظ سے ایک بڑا ملک ہے۔بین الاقوامی دُنیا اسے ناراض نہیں کرنا چاہتی اس لیے جب پاکستان کشمیر کی بات کر تا ہے تو دُنیا اس میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیری قیادت کو سفارتی سطح پر زیادہ سے زیادہ جدوجہد کا موقعہ دیا جائے۔ایک سوال کے جواب میں بیر سٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ بھارت بار بار لائن آف کنٹرول کی خلاف وزریاں کرتا ہے۔جبکہ پاکستان انڈیا کے ہائی کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے صرف روایتی انداز میں احتجاج کرتا ہے۔جیسے ہم سکول کے زمانے میں کسی سے مار کھا کہ کہتے تھے کہ اب مار کے دیکھا۔اب مار کے دیکھا والی پالیسی اب ترک ہونی چاہیے۔لائن آف کنڑول کے اُن حصوں پر جہاں پاکستانی فوج کی دفاعی پوزیشن مضبوط ہے وہاں سے انڈیا کو لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کا منہ توڑ جواب ملنا چاہیے۔انڈیا کو یہ تھرٹ (Threat)رہنی چاہیے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے جو کسی وقت کچھ بھی کر سکتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ نیلم کے علاقے میں بس پر راکٹ حملہ اور بعد ازاں اِن زخمیوں کو اُٹھا کر لے جانے والی ایمبو لینس پر بھارتی فائرنگ انتہائی بزدلانا کاروائی ہے ایسا تو بدترین جنگوں کے دوران بھی نہیں ہوتا۔آزاد حکومت اور وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرین کی امداد کے لیے فوری اور ہنگامی اقدامات اُٹھائیں۔تاکہ لوگ لائن آف کنٹرول کے علاقوں میں رہ سکیں وہاں سے وہ نکل مکانی نہ کریں۔لوگ اُدھر رہیں گے تو اسی صورت وہ پاک فوج کے شانہ بشانہ دشمن سے لڑ سکیں گے۔ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر سلطان نے کہا ہے اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دیوار برلن کی طرح لائن آف کنٹرول کو اپنے قدموں تلے روند ڈالیں۔اس کے لیے دونوں اطراف کے کشمیریوں کو آگے بڑھنا ہو گا۔جب دیوار برلن ٹوٹی تھی تو اُس وقت امریکہ اور روس کی افواج وہاں موجود تھی لیکن وہ کچھ نہ کر سکی۔میں نے بین الاقوامی سطح پر جو ملین مارچز شروع کر رکھے ہیں۔وہ دراصل ایک بڑئے ملین مارچ کی تیاریوں کی مشق ہے۔میں نے برطانیہ امریکہ میں ملین مارچز کیے اور اب کے ساتھ 27اکتوبر کو برسلز میں برسلز کی تاریخ کا سب سے بڑا ملین مارچ کیا۔
Scroll To Top