اسلامی نظریاتی کونسل اجلاس، اوقاف،امداد باہمی،پراپرٹی ایکٹ، تعلیمی محصول مسودات کا تفصیلی جائزہ،سیکرٹریٹ دفاتر کے منتقلی پر اظہار برہمی،

ajk

مظفرآباد (پی آئی ڈی ) چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر و چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل جسٹس محمد اعظم خان نے محکمہ سروسز کی جانب سے اسلامی نظریاتی کونسل سیکرٹریٹ کے دفاتر کے منتقلی پر ناراضگی کا اظہار کیا ۔ چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر سپریم کورٹ و چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل جسٹس محمد اعظم خان کی زیر صدارت اسلامی نظریاتی کونسل کا 93واں اجلاس سپریم کورٹ میں منعقدہوا ۔اجلاس میں سیکرٹری اسلامی نظریاتی کونسل سید فدا حسین گردیزی ، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ قانون ، انصاف و پارلیمانی امور، ڈپٹی سیکرٹری سیکرٹریٹ امورِ دینیہ و اوقاف،کونسل کے اراکین مولانا کفایت حسین نقوی، مولانامحمد اسحاق خان المدنی، علامہسیدغلام یاسین شاہ گیلانی، مولانا محمد امتیاز صدیقی، مولانا محمد خورشید خان، مولانا قاری عتیق الرحمان، چوہدری منصف داد ایڈووکیٹ، ڈاکٹر محمد اقبال مجددی اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل آزاد جموں و کشمیر اوقاف ایکٹ مجریہ 1960ء، آزاد جموں و کشمیر انجمن ہا امداد باہمی کا قانون مجریہ 1967ء ،بیت المال پراپرٹی ایکٹ مجریہ1950ء ، آزاد جموں و کشمیر تعلیمی محصول کا قانون مجریہ 1975ء ویسٹ پاکستان ہائی ویز آرڈیننس ( ایڈا پٹیشن ) مجریہ 1984ء اور کونسل کی سابقہ سفارشات پر عملدرآمد و کونسل اورکونسل سیکرٹریٹ سے متعلقہ زیر کار امور پر جاری پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے جملہ معاملات پر مثبت پیش رفت کیلئے سیکرٹریٹ کونسل کو متعلقہ محکمہ جات سے مزید اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں متعدد قراردادیں پیش کی گیں جنہیں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ۔قرار دادوں میں کہا گیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل آزاد جموں و کشمیرنے مقبوضہ جموں و کشمیر میں نوجوان کشمیری مجاہد برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سے شروع ہونے والے بھارتی سیکورٹی فورسز کے مظالم کے ذریعے120سے زائد کشمیریوں کی شہادت، پیلٹ گن کے ذریعے 1000سے زائد کشمیریوں کو بینائی سے محروم کرنے اور ان کے چہروں کوداغدارکرنے ، بلا تحقیق اوڑی واقعہ کا الزام پاکستان پر لگانے، بھارتی حکومت کی جانب سے سرجیکل سٹرائیک کے مضحکہ خیز دعوے، کنٹرول لائن اور ورکنگ باونڈری پر بلا اشتعال فائرنگ کے ذریعہ بے گناہ عوام اور LOCپر سیکورٹی فورسز کی شہادتیں، جنگی جنون کو ہوا دینے اور چار ماہ سے زائد عرصہ تک مقبوضہ وادی میں قابص بھارتی افواج کی طرف سے مسلسل جاری کرفیو کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔کونسل کی رائے میں مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی سیکورٹی فورسز نے وسیع پیمانے پر ظلم و ستم کا ہدف ان معصوم کشمیریوں کو بنا رکھا ہے جواپنی دھرتی پر بھارتی جابرانہ قبضے اور بالا دستی کے خلاف گذشتہ سات دہائیوں سے جدوجہدآزادی میں مصروف ہیں۔ اس عرصہ میں ہزاروں کشمیری بشمول خواتین و بچے شہید ہوئے ۔ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ سات لاکھ سے زائد قابض بھارتی افواج کی بندوقوں کے سائے تلے اور قابض انتظامیہ کے بنائے گے غیر انسانی قوانین کے تحت زندگیاں گزارنا نہیں چاہتے ۔ بھارت کا کشمیریوں پر انسانیت سوزظلم اقوام عالم سمیت عالمی انصاف کی عدالتوں، اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے مشاہدہ کر رہے ہیں لیکن اس سب کے باوجود انسانی حقوق کے عالمی ادارے خصوصاً اقوام متحدہ اپنی قرار دادوں پر عملدرآمد کروانے میں برُی طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ حالانکہ سلامتی کونسل کے ایجنڈا پر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کا موجود رہنا اس امر کی دلیل ہیکہ مسئلہ کشمیر آج بھی ایک حل طلب تنازعہ ہے اور مطلوبہ حل میں تاخیر خطہ کے امن کو تہس نہس کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ چار ماہ کے دوران تحریک آزادی کیلئے طویل ترین کرفیو اور ہڑتالوں کے باعث ان کی مستقل مزاجی ، ہمت اور قائدین کی سطح پر اتحاد و اتفاق کو بھرپور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پرُ امید ہیکہ وہ دن دور نہیں جب کشمیری قوم اپنی اس جدوجہد میں کامیاب و کامران ہو گی۔کونسل نے اس رائے کا بھی اظہار کیا ہے کہ بھارتی انتہا پسند قیادت کشمیر میں ڈھائے جانے والے اپنے مظالم کو چھپانے کیلئے جنگی جنون کو ہوا دے رہی ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے صبر و تحمل سے کام لے رہا ہے لیکن اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو ہندستان جان لے کہ20کروڑ پاکستانی عوام ہماری سیاسی و عسکری قیادت قومی ا تحاد و یکجہتی کی وہ علامت ہیں جس میں دفاع وطن کے حوالہ سے کوئی تقسیم نہ ہے کونسل کا یہ اجلاس اقوام متحدہ، یورپی یونین، اسلامی کانفرنس کی تنظیم اور دیگر انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی عالمی تنظیموں سے پرُ زور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و ستم ،بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام، پیلٹ گن کے بے دریغ استعمال ، چار ماہ سے جاری کرفیو، حریت قیادت کی گرفتاریوں، خواتین پر تشدد اور چادر و چاردیواری کے تقدس کو پامال کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے بھارتی انتہا پسند حکومت پر دباؤ ڈالیں اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق خود ارادیت کا حق دلوانے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے کشمیر میں جاری انسانیت سوز ظلم کو رکوانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔ایک اور متفقہ قرار دار کے ذریعے کونسل نے ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی لہر جو گزشتہ ایک دھائی سے جاری ہے جس نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے ، کے خلاف پاکستانی عوام کی مدد سے پاک ا فواج اور سیکورٹی فورسز کی جانب سے شمالی وزیرستان ، قبائلی علاقہ جات اور شہری علاقوں میں جاری آپریشن “ضرب عضب”اور سیکورٹی فورسز کی کاروائیوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔اجلاس کی رائے میںآپریشن ” ضرب عضب “کی کامیابی اور ملک کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کیلئے پوری قوم حکومت اور افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے ۔ حکومت اور مسلح افواج ملک سے دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے جس جرأت ، دلیری اور بے جگری کے ساتھ کاروائیاں کر رہی ہے اس پر نہ صرف پوری قوم ان کو خراج تحسین پیش کرتی ہے بلکہ بین الاقوامی برادری بھی اس کی معترف ہے۔کوئٹہ میں دہشت گردی کی پے در پے کارروائیوں،پولیس ٹریننگ سکول،وکلاء کے قتل اور درگاہ شاہ نورانی میں دہشت گردوں کی بذدلانہ کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور ان سانحات میں شہید ہونے والے معصوم افراد اور جانوں کے ضیاع پر گہرے افسوس اور رنج کا اظہار کرتا ہے۔کونسل کی رائے میں ملت اسلامیہ میں فتنہ و فساد بپا کرنے اوراتحاد و یکجہتی میں دراڑیں ڈالنے والے دہشت گرد جو اسلام کے نام پر اسلام دشمن ایجنڈا پر کام کر رہے، کامذہب اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب ناحق قتل کرنے کی آجازت نہیں دیتا۔ کونسل کا یہ اجلاس رابطہ عالم اسلامی ، اسلامی تعاون تنظیم اور امت مسلمہ کے اتفاق و اتحاد اور مسلمانوں کے حقوق کی بازیابی کیلئے کام کرنے والی دیگر بین الاقوامی تنظیموں سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ہشت گردی کی ان کارروائیوں کے تدارک کیلئے بین الاقوامی طور پر موثر حکمت عملی وضع کریں۔کونسل کا یہ اجلاس ملکی اور بین الاقوامی طور پر فتنہ وفساد برپا کرنے والے انسانیت کے قاتلوں کے خلاف بین الاقوامی طور پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کے علاوہ ملکی سطح پر علماء و مشائخ ، آئمہ کرام اور واعظین سے یہ اپیل کرتا ہے کہ وہ ملک کو دہشت گردی کی آگ میں دھکیلنے اور مسلکی و مذہبی منافرت کی آڑ میں عوام کے درمیان اختلاف اور انتشار کا بیج بونے والے مکروہ عزائم کو بے نقاب کرنے میں اپنا مؤثر اور مثبت کردار ادا کریں۔ ایک اور متفقہ قرار کے ذریعہ کونسل نے ممتاز عالم دین اور کونسل کے سابق رکن مولانا عبدالعزیز حنیف کی رحلت پر اپنے گہرے افسوس کا اظہار کرتا ہے اور آزاد جموں و کشمیر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مسلکی رواداری کے فروغ کیلئے مرحوم کی گرانقدر خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے رب ذوالجلال سے یہ دعا کرتا ہے کہ وہ مرحوم کی دینی خدمات کو قبول فرماتے ہوئے انہیں جنت الفردوس میں جگہ اور پسماندگان کو یہ صدمہ صبر و استقامت سے برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Scroll To Top