جنوبی کشمیر کے شوپیاں قصبے میں حافظ قرآن نوجوان صدام حسین کو شہید کر دیا گیا

shaheed

سری نگر(یو این پی) بھارتی فوج نے جنوبی کشمیر کے شوپیاں قصبے میں حافظ قرآن نوجوان صدام حسین کو شہید کر دیا ہے ۔صدام حسین کوعید گاہ میں سپرد خاک کر دیا گیانماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ جنازے کے جلوس میں شامل لوگوں نے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرہ بازی کی۔مقامی لوگوں کے مطابق صدام حسین ایک شریف اور مذہبی اور صاحب ثروت گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور اس نے دو سال قبل حافظ قرآ ن مکمل کیا تھا اور وہ قاری بھی تھے۔صدام کے دو بھائی ہیں اور وہ ان میں سے سب سے چھو ٹا تھا ۔ اس دوران صبح 9 بجے کے قریب صدام حسین کی لاش پولیس نے لواحقین کے حوالے کی ۔ قریب 10بجے اسکی میت چتر پورہ شوپیان پہنچائی گئی تو سینکڑوں مرد و زن اور بچے وہاں پہنچ گئے ۔جلوس میں شامل لوگ آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرہ بازی کررہے تھے۔بعد میں اسکی میت کو مقامی عید گاہ میں رکھا گیا اور دن بھریہاں مساجد میں آزای کے ترانے گونجتے رہے ۔ صدام حسین کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔عینی شاہدین کے مطابق صدام حسین کے نماز جنازہ میں اس قدر لوگ جمع ہوئے تھے کہ نماز جنازہ دو مرتبہ ادا کرنا پڑی۔بعد میں اس کی میت کومقامی قبرستان پہنچایا گیا جہاں پرنم آنکھوں سے نعروں کی گونج میں صدام حسین کو سپرد لحد کیا گیا۔ کشمیر میں جاری عوامی احتجاجی لہر کے122ویں روز سرینگر،بانڈی پورہ ،پلوامہ اور شوپیاں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جبکہ بانڈی پورہ میں فوجی کانوائے پر سنگبازی کی گئی ۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس کے گولے داغے جبکہ حاجن میں ایک اسکول کوپراسرار طور پر آگ کی واردات میں نقصان پہنچا۔اس دوران پائین شہر کے کچھ علاقوں اور ایچ ایم ٹی میں بندشیں بھی رہیں تاہم دن گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں نرمی بھرتی گئی۔پولیس نے دن بھر کی صورتحال کو خوشگوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ حساس علاقوں میں معقول تعداد میں فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ ہڑتال کال پر شہر سرینگر میں تمام دکانیں ،کاروباری ادارے ،تجارتی مراکز ،تعلیمی ادارے مکمل طور بند رہے جبکہ سڑکوں پرمسافر بردارٹریفک کی آمد و رفت بھی معطل رہی۔ پائین شہر میں سرینگر میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر صبح سے ہی سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے اور حساس علاقوں میں پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں کو تمام ضروری ساز و سامان سے لیس کرتے ہوئے تعینات کر دیا گیا تھا اس کے باوجود بھی اکا دکا پرائیویٹ گاڑی کی سڑکوں پر نقل و حمل کرتی ہوئی نظر آرہی تھی۔ پیر کو فورسز اہلکاروں کی طرف سے ٹیر گیس شل کا نشانہ بنائے جانے کے بعد زخمی ہوئے
Scroll To Top