حکومت نے اگر تعلیمی اداروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی تو حالت خراب ہوں گے:لطیف اکبر

Latif Akber AJK

مظفرآباد( بیورو رپورٹ) پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر آرگنائزر کمیٹی کے سنیئر ممبر چوہدری لطیف اکبر نے کہا ہے‘ میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں کے خاتمے پر ہم آخری حد دتک جاہیں گے ا گر حکومت نے اگر ان اداروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی،کوشش کی تو حالت خراب ہوں گے کشمیر میں تعلیمی ادارے جلائے جا رہے ہیں اور آزاد کشمیر کی حکومت تعلیمی ادرے بند کر رہی ہے وزیر اعظم بتاہیں کس کے اجنڈے پر کام کر رہے ہیں ،ہم نے وزیر اعظم کے اچھے فیصلوں کی تعریف بھی کی تھی مگر کمزوری سمجا گیا ،ہم نے ریاست میں ادارے دیئے ہیں تو حفاظت کرنا بھی جانتے ہیں ،یہ ا دارے کسی سیاسی پارٹی کے نہیں اس ریاست کے اورمخلوق کے لیئے ہیں ،اچھے کام کسی کسی کے نصیب میں ہوتے ،مسلم لیگ ن کو صرف یہ تکلیف ہے ان ادروں کوبناناپیپلزپارٹی کی حکومت کے حصے میں کیوں آئے ،وزیر عظم کو ہم سے اختلافات ہیں تو بتاہیں اداروں سے انتقام لے کر کیا ثابت کرنا چاہتے ۔،ہم چاہتے تھے ن لیگ جعلی منڈٹ لے آئی پھر بھی کام کرنے دیا جائے مگر،وزیر اعظم کو بہت جلدی ہے لگتا وزیر اعظم کے مشیر ان کے ہمدارد نہیں جو غلط کام کروا رہے ہیں ،ان میڈیکل کالجوں کے لیئے ہماری ماں بہین بچے بچیاں سڑکوں پر آئی تھی بڑ ی جدجہد کے بعد یہ کالج بنائے گے تھے ہم آزاد خطہ کو علیم کی زیور سے آراستہ کرنے کے لیئے ایجوکشنل سٹیٹ بنانے کے خوائش مند تھے اور حکمران ،ان سے یہ سہولتیں چھین کر دورے غلامی ،کی دلدل میں دکھلنے کی پالیسی پر کامزن ہیں حکومت کی جانب سے بنائی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کو کوئی جواز نہیں ،ان کالجوں کا بجٹ وفاق سے منظور شدہ ہے پیپلز پارٹی نے آزاد خطہ کو ایجوکیشن سٹیٹ بنانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے ۔ نامساعد حالات کے باوجود آزاد کشمیر میں 5یونیورسٹیاں اور 3میڈیکل کالجز کا قیام عمل میں لایا گیا اور میڈیکل کالجز سے ڈاکٹرز کا پہلا بیج فارغ ہونے والا ہے ، لیگی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے ۔ حکومت کی 3ماہ کی کارکردگی مایوس کن ‘ انتقام اور عوام دشمنی پر مبنی ہے ۔ حکومت اگر ریاستی عوام کو کچھ دے نہیں سکتی تو جو عوام کو نصیب ہوگیا ہے اسے تو نہ چھینیں ۔ میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں کیخلاف سازشیں بند نہ کی گئیں صرف احتجاج ہی نہیں بات بہت آگے تک جائے گی ، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر یاد رکھیں اگر انہوں نے اس طرح کے اقدامات اٹھائے تو پھر اپوزیشن حکومت کو نہیں چلنے دے گی اور سیاسی و عوامی طاقت کے ذریعے حکومت کے عوام دشمن اقدامات کو روکیں گے۔۔
Scroll To Top