جموں کشمیر کے شہداء کا انتقام لیں گے، مودی سن لو!کشمیری مجاہدین تمہیں بتائیں گے سرجیکل سٹرائیک کسے کہتے ہیں: شہدائے جموں کانفرنس

kashmir

میر پور(کے این آئی)مذہبی، سیاسی و کشمیری جماعتوں کے قائدین نے دفاع پاکستان کونسل کی شہدائے جموں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کشمیریوں کی عملی مدد کریں دھرنوں اور پانامہ لیکس جیسے مسائل سے جان چھوٹ جائے گی۔سیز فائر لائن کو کنٹرول لائن نہیں مانتے۔ شملہ معاہدہ مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ نریندر مودی نے سرجیکل سٹرائیک کا جھوٹا دعویٰ کیا‘ اب کشمیری مجاہدین تمہیں بتائیں گے سرجیکل سٹرائیک کسے کہتے ہیں۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی سبوتاژ کرنے کیلئے ملک میں سیاسی انتشار کو ہوا دی جارہی ہے۔ اسلام آباد میں ہندوستانی سفارتخانہ را کا ہیڈکوارٹر بن چکا ہے۔بھارتی ایجنٹ یہاں سے بیٹھ کر کوئٹہ، پشاور اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کروارہے ہیں۔اقتصادی راہداری منصوبہ ناکام بنانے کیلئے بلوچستان، گلگت بلتستان میں سازشیں کی جارہی ہیں۔ حکمران مسئلہ کشمیر کو کو ر ایشو سمجھتے ہیں تو منافقت چھوڑ دیں۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ والے قائد کے فرمان کو قومی پالیسی بنایا جائے۔ پانامہ لیکس کا معاملہ سپریم کورٹ پر چھوڑ دیا جائے۔ سیاستدان و حکمران کشمیر کو اپنا مسئلہ سمجھیں اور مل کر تحریک کی شکل میں مظلوم کشمیریوں کی مدد کریں۔ وزیر اعظم کشمیریوں کیلئے راشن کے ٹرک بھجوائیں پوری قوم ان کے ساتھ ہو گی۔ ہندوستان سے آلو پیاز کی تجارت بند کی جائے۔ آزاد کشمیر کو بیس کیمپ بنائیں۔ 15نومبر نیلم آزاد کشمیر میں کانفرنس ہو گی۔ جموں کشمیر کے شہداء کا انتقام لیں گے۔قائد اعظم سٹیڈیم میر پورمیں ہونے والی کانفرنس سے دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق، پروفیسر حافظ محمد سعید، سردار عتیق احمد خاں، علامہ ابتسام الہٰی ظہیر،عبداللہ گل،مولانا عبدالعزیز علوی، قاری یعقوب شیخ،مولانا سیف اللہ خالد، عتیق الرحمان،مفتی محمد روئیس خان، مرزا ہمایوں زمان، چوہدری محمد محمود،محمد آصف ڈار،مولانامحمد طلعت مدنی،مولانا محمد اقبال فاروقی، انجینئر محمد حارث ڈار،عبدالوحید شاہ نے خطاب کیا۔ اس موقع پرسٹیڈیم میں تل دھرنے کا جگہ نہ تھی۔ میر پور اور اس کے گردونواح سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مقررین کے خطابات کے دوران کشمیریوں پر مظالم کے تذکرہ پر زبردست جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ شرکاء کی طرف سے کشمیریوں سے رشتہ کیالاالہ الااللہ، تیر ا نگر میرا نگر ‘ سری نگر سری نگر اور کشمیر بنے گا پاکستان کے فلک شگاف نعرے لگائے جاتے رہے۔ کانفرنس کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ ہزاروں افراد کو مکمل جامہ تلاشی کے بعد سٹیڈیم میں جانے کی اجازت دی گئی۔ شہداء جموں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے ظلم کا بازار گرم رکھا ہے۔میر پور میں کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے آئے ہیں۔دفاع ایک وسیع لفظ ہے۔پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کا بھی دفاع کریں گے۔پہلے صرف مشرقی سرحد سے خطرہ تھا اب مغربی سرحد بھی بھارت کا اڈہ بن چکی ہے۔بھارت کے قونصل خانے بن چکے ہیں ۔مغربی سرحد پاکستان کا بہترین حصار تھی لیکن غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج دونوں اطراف سے ملک کو خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والا نظریاتی ملک ہے ۔افسوس کی بات ہے کہ نظریاتی تشخص پر بھی ڈرون حملے کئے جا رہے ہیں۔کلمہ کے نام پر بننے والے ملک کو لبرل و سیکولر بنانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں جو کامیاب نہیں ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ دفاع پاکستان کونسل کا مقصد عظیم ہے،اختلافات ،انتخابی سیاست اور فرقہ واریت سے بالا تر ہو کر کام کر رہے ہیں اور اس کونسل میں تمام مکاتب فکر کے نمائندے شامل ہیں۔حافظ محمد سعید دفاع پاکستان کونسل میں صف اول کی قیادت ہیں۔انہوں نے کہا کہ روس،امریکا ،نیٹو کو افغانستان سے شکست ہوئی اور انہیں بھاگنا پڑا،اب انڈیا کی باری ہے ،وہ بھی کشمیر سے بھاگے گا اور کشمیریوں کو آزادی ملے گی۔امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہاکہ وزیر اعظم نواز شریف، پارلیمنٹ اور کابینہ ممبران سے کہتاہوں کہ جہاں آپ نے کشمیر کو شہ رگ قراردینا ہے اسی طرح یہ طے کریں کہ ہم کنٹرول لائن نہیں مانتے۔ مسئلہ کشمیر کے حل میں ایک بڑی رکاوٹ شملہ معاہدہ ہے۔ ہمیں اس کا انکار کرنا چاہیے۔ شملہ معاہدہ میں لکھا ہے کہ یہ دوطرفہ مسئلہ ہے۔ جب آپ یواین کی قراردادوں کی بات کرتے ہیں تو انڈیا کہتا ہے کہ اس مسئلہ پر پاکستان اور انڈیا کے درمیان بات ہو گی۔ وہ کہتے ہیں کہ آزاد کشمیر بھی چھوڑ دو اس پر تم نے قبضہ کیا ہے۔ یہ کمزور پالیسیوں کو نتیجہ ہے کہ امریکہ نے سرکاری طور پر جو بات کہی وہ یہ تھی کہ یہ مسئلہ انڈیا کا اندرونی مسئلہ ہے۔ آپ اس مسئلہ کے حل کیلئے سنجیدہ ہوجائیں۔ انہوں نے کہاکہ انتشار کا جو ماحول بنایا گیا ہے وہ کشمیر کیخلاف سازش ہے تاکہ میڈیا سے کشمیر غائب ہو جائے اور پاکستانیوں کو اندرونی سیاست میں الجھا دیا جائے۔ کشمیر ی قربانیاں دے رہے۔ سپریم کورٹ پانامہ لیکس کا جو فیصلہ کرے سب کو ماننا ضروری ہے۔ اس پر چھوڑ دو۔ ہم عمران خاں اور سب سیاسی لیڈروں سے کہتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلہ کو اپنا سمجھو۔ سازشوں کا شکار نہ ہوں۔ تحریک کی شکل میں آگے بڑھائیں۔ آزاد کشمیر تحریک آزادی کا بیس کیمپ ہونا چاہیے۔ اللہ کی پکڑ سے ڈر جاؤ۔انہوں نے کہاکہ نریندر مودی کہتا ہے کہ ہم نے سرجیکل سٹرائیک کیا ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ انڈیا کے اندر اتنی ہمت نہیں ہے ۔ وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ تم نے جو کرنا تھا کر لیا اب کشمیری مجاہدین تمہیں سرجیکل سٹرائیک کر کے دکھائیں گے۔آئندہ تمہاری رائل اکیڈمی کے لوگ تمہیں وہ سرجیکل سٹرائیک پڑھائیں گے جو کشمیری مجاہدین کر کے دکھائیں گے۔مسئلہ کشمیر پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ کشمیر کی آزادی یقینی ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں سینک کالونیاں آباد کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ یہ فوجی چھاؤنیاں ہیں۔کشمیری اس کا بدلہ لیں گے۔ہم انڈیا سے کہتے ہیں کہ کشمیر چھوڑ دو اس کے علاوہ تمہارے لئے راستہ نہیں ہے۔ اگر کشمیر نہ چھوڑا تو پھر مسئلہ آگے جائے گا۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ پانامہ لیکس جیسے مسائل اللہ کی پکڑ ہیں۔ کشمیر یوں کی نسل کشی کی جارہی ہے ۔وزیر اعظم نواز شریف کشمیریوں کی مدد کیلئے کھڑے ہوجائیں یہ مسائل حل ہو جائیں گے وگرنہ جب اللہ کی طرف سے پکڑ آتی ہے تو پھر کوئی چھڑا نہیں سکتا۔ آپ کہتے ہیں کہ یو این میں آپ نے کشمیر یوں کیلئے آواز بلند کی ۔ یہ اچھی بات لیکن لاکھوں کشمیریوں کی شہادت کا انتقام پاکستانی وزیر اعظم پر فرض ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کے نمائندے بیرونی دنیا میں کشمیر کی نمائندگی نہیں کر سکے۔یہ انڈیا کے پروپیگنڈا سے متاثر ہو کرہمارے خلاف ہی بولنے لگے۔ یہ نمائندگی انڈیا کی کر رہے ہیں۔ ان مسائل پر غوروفکر کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم، سینٹ اور قومی اسمبلی کے ذمہ داران مسئلہ کشمیر کو اگر کور ایشو کہتے ہیں تو منافقت بند کرو۔ کشمیر پالیسی واضح کرو۔ ابھی تک یہ دوٹوک اور واضح نہیں ہے۔ قائداعظم نے کشمیر کا جو موقف بیان کیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ یہ پاکستان کا قومی موقف ہونا چاہیے۔ اس کے بعد ہر پروپیگنڈا کا توڑ آسان ہو گا۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے یہ قومی پالیسی بنائی جائے۔ اس کا اعلان کیا جائے اور اس کے بعد تمام ملکوں میں جا کر واضح کر دیجئے ۔نواز شریف واضح طور پر کہہ دیں کہ کہ اگر آپ کو یو این کی قراردادیں منظور نہیں ہیں اور دستخط کرنے سے پھر گئے ہو تو پھر کشمیر تو ہمارا مسئلہ ہے ۔ سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق ، یٰسین ملک، آسیہ اندرابی،شبیر شاہ جہاں کھڑے ہیں نواز شریف بھی وہیں کھڑا ہو گا۔ چکوٹھی سے ٹرک آجارہے ہیں واہگہ سے آلو پیاز کی تجارت چل رہی ہے۔ نواز شریف چار ماہ کی اس تحریک میں کرفیو میں جس طرح راشن کا مسئلہ پیدا ہوا۔ لوگ بھوک کی کیفیت میں ہیں۔ آپ نے چکوٹھی کے راستے ٹرک کیوں نہیں بھجوائے۔ آپ پاکستان اور آزاد کشمیر سے کشمیریوں کو راشن پہنچانے کیلئے نکلیں پوری قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ کشمیریوں کے پانی سے ہماری فصلیں سیراب ہو رہی ہیں۔ پاکستان پر قرض ہے ان کی مدد کرنا۔ یہ انسانی مسئلہ ہے لیکن ہمارا گناہ یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ آج دنیا انہیں انسان ماننے کیلئے تیا رنہیں ہے۔ آج کی سیاست یہ ہے کہ مسلمان آزادی کی بات نہیں کر سکتے۔ دنیا جو چاہے سمجھے پاکستانی کشمیریوں کی مددقرض سمجھتے ہیں۔ آپ کشمیریوں کی مدد کریں دھرنے ختم ہو جائیں گے۔ پاکستان کی سیاست بدل جائے گی لیکن کچھ کر کے تو دکھاؤ ایسے بات نہیں چلے گی۔آپ اگر یواین میں بات کرتے ہیں اور عملی طور پر کشمیریوں کی مدد نہیں کرتے تو پھر یہ نفاق ہے۔ کشمیریوں کی مددکے بغیر چارہ نہیں ہے۔ آزاد کشمیر کی حکومت سے بھی ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو آزادی کی نعمت سے نوازا ہے۔ اس کا شکر ادا کرنایہ ہے کہ آپ سری نگر کو آزاد کروانے کیلئے کردار ادا کریں۔ ہمارے نزدیک آرپار کشمیر ایک ہے۔ سیز فائر لائن ہے کنٹرول لائن نہیں ہے۔ شملہ معاہدہ میں کشمیری شامل نہیں وہ کنٹرول لائن کو نہیں مانتے۔ اگر کشمیری کنٹرول لائن کو نہیں مانتے تو پاکستانی بھی نہیں مانتے۔ مسئلہ ہی کشمیریوں کا ہے۔ ان پر پالیسیاں مسلط کرنا غلط ہے۔ ہم اعلانیہ کہتے ہیں کنٹرول لائن کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ یہ معاہدہ اس وقت ہوا جب ترانوے ہزار فوج قید میں تھی۔ سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خاں نے کہاکہ بھارتی فوج کشمیر میں ناکام ہو چکی ہے،کشمیری پاکستانی پرچم لہرا رہے ہیں،مسلمانوں کے ساتھ سکھ اور ہندو بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں۔جماعۃ الدعوہ کو کشمیریوں کی مدد و حمایت پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انڈیا پاکستان کو میدان جنگ بنانا چاہتا ہے تو ہمیں بھی فیصلہ کرنا ہو گا ،کشمیر میں بھی بھارت کو مار پڑ چکی ہے،آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان مذاکرات سے نہیں جہاد سے آزاد ہوئے تھے۔آج بھی ان مجاہدین کے وارث موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ انڈیا نے تیرہ فٹ باڑ لگائی،خندق کھودی،آٹھ لاکھ فوج کشمیر میں ہے اور اس کے باوجود بھارت واویلا کرتا ہے کہ حافظ سعید کے بندے مقبوضہ کشمیر پہنچ جاتے ہیں یہ بھارت کی ناکامی ہے۔حافظ محمد سعید اسلام اور پاکستان کی بات کرتے ہیں،کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ کہتے ہیں بانی پاکستان نے بھی شہہ رگ کہا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا وزیر اعظم کلبھوشن یادیو کا نام نہیں لے رہا اور بھارت حافظ سعید کا نام مسلسل لے رہا ہے،حکومت پاکستان کو کھل کر بھارت کے حوالہ سے بات کرنی چاہئے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ فوج،دفاعی اداروں کے خلاف بات کرنے،معاشی ،دفاعی طور پر پاکستان کو نقصان پہنچانے اور بھارت کا ترنوالہ بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور پھر کہا جاتا ہے کہ اسلام پسند نقصان پہنچا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین کی وجہ سے پاکستان کے دفاع کو تقویت مل رہی ہے۔سی پیک اس خطے کی تقدیر میں تبدیلی کی علامت اور دفاعی ،معاشی توازن کا ذریعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ سیز فائر لائن کو کبھی لائن آف کنٹرول نہیں کہا جا سکتا،سیز فائر لائن اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہے،شملہ معاہدہ میں کشمیری شریک نہیں تھے۔ہم سیز فائر لائن کو 24نومبر کو روندیں گے۔پاکستان کی سیاسی جماعتیں بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کشمیر کی تحریک کی حمایت کریں۔جمعیت اہلحدیث کے ناظم اعلیٰ علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر نے کہا کہ میر پور شہر میں محمد بن قاسم ،طارق بن زیاد کی یادوں کو تازہ کرنے والے آئے ہیں،مودی اور دیگر بھارتی حکمرانوں نے کشمیریوں کا خون بہایا،خواتین کی عصمتیں لوٹیں اب فرزندان کشمیر کے لہو کا حساب لیا جائے گا۔سرینگر کا چپہ چپہ نبی کریم ﷺ کے غلاموں کا دیس ہے ،وہاں بھی شریعت کا پرچم لہرائے گا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کو گرفتار کرنے والوں اور ان پر مظالم کرنے والوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم سرینگر میں اسلام کے جھنڈے کو لہرا کر چھوڑیں گے،شہداء کشمیر کا بدلہ لیں گے۔انجمن نوجوانان پاکستان کے چیئرمین عبداللہ گل نے کہاکہ کشمیر یوں کی نسل کشی کی جارہی ہے اور ہماری حکومتیں مفادات کی خاطر مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال رہی ہیں۔ کشمیر ایک نظریہ کا نام ہے ۔ ہم مرتے دم تک مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ہمیں کشمیریوں کو یقین دلانا ہے جو اپنے بچوں کی تدفین پاکستانی پرچم میں لپیٹ کرکر رہے ہیں۔ کشمیرکا پانی ہماری رگوں میں خون بن کر دوڑ رہا ہے۔ ہماری اجناس کشمیر کے پانیوں کی مرہون منت ہے۔ہمیں یہ قرض ادا کرنا ہے۔ دفاع پاکستان کونسل اسلام و نظریہ پاکستان کا تحفظ اور مسلمانوں کو متحد کر رہی ہے۔ اگر بھارت کشمیر کو آزادی نہیں دیتا تو پاکستان کو اعلان جہاد کرنا چاہیے۔آج بھارتی جرنیل سمجھتے ہیں کہ آزادی کشمیریوں کے مقدر میں لکھ دی گئی ہے۔ سی پیک کشمیر کیلئے بھی ایک نئی تجارت اورروشنی کی راہ کھول دے گا۔جماعۃالدعوۃ آزاد کشمیر کے امیر مولانا عبدالعزیز علوی نے کہا کہ سرینگر میں کشمیریوں کے لاشے تڑپ رہے ہیں اور پاکستانی حکمران و سیاستدان باہمی لڑائی جھگڑوں میں مصروف ہیں۔ کبھی ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ حکمران دوستی میں بھارت کو کشمیر تحفے میں نہ دے دیں۔کشمیریوں کو کسی بھی ایشو پر اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کے شہر میر پور میں شہداء جموں کانفرنس کے انعقاد پر دفاع پاکستان کونسل کے قائدین کی آمد ہماری حوصلہ افزائی ہے۔پاکستان سے محبت کرنے والے کشمیریوں کو اسی دن شہید کیا گیا،تصور پاکستان سے تکمیل پاکستان تک کشمیریوں کی تحریک جاری ہے اور جاری رہے گی۔ نظریہ پاکستان رابطہ کونسل کے کنوینر قاری یعقوب شیخ نے کہاکہ بھارت نے چار ماہ سے کشمیر میں ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے لیکن پاکستانی حکمران بھارت سے دوستیاں نبھانے میں مصروف ہیں۔ اسلام آباد میں ہندوستانی سفارتخانہ را کا ہیڈکوارٹر بن چکا ہے۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ یہاں سے کبھی کوئٹہ، پشاور اوردیگر علاقوں میں دھماکے کروائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر میں نہتے مسلمانوں پر پیلٹ برسائے جارہے ہیں۔ ایمبولینسوں سے مریضوں کو نکال کر گولیاں برسائی جارہی ہیں۔ جماعت الدعوۃ کے مرکزی رہنما مولانا سیف اللہ خالد نے کہاکہ جموں کشمیر کے شہداء کا انتقام لیں گے اور غاصب بھارتی فوج کی آٹھ لاکھ فوج کو جلد کشمیر سے نکلنے پر مجبور کریں گے۔ جماعت اسلامی میر پورکے امیرعتیق الرحمن نے کہاکہ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر کے کشمیریوں کی بھرپور مددکرنا ہوگی۔فرقہ واریت نے مسلم امہ کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔آزادی کشمیر کیلئے ہم سب متحد ہیں۔ جمعیت علماء اسلام (س) آزاد کشمیر کے امیر مفتی محمد روئیس خان نے کہا کہ وادی نیلم میں بھی دفاع پا کستان کونسل بھر پور پروگرام کرے۔کشمیریوں کی آزادی جاری ہے اور جاری رہے گی۔ پاکستان پیپلز پارٹی میر پور کے رہنما مرزا ہمایوں زمان نے کہا کہ دفاع پاکستان کونسل کو کامیاب شہداء جموں کانفرنس کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں،کشمیر میں جاری تحریک آج شہداء کے خون کی وجہ سے ہے۔شہداء کی قربانیاں ضائع نہیں ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلہ پر کوئی سیاسی جماعت چشم پوشی نہیں کر سکتی۔شہداء جموں کے موقع پر سوال کرتا ہوں کہ رائیونڈ میں مودی آسکتا ہے تو شہداء کے وارث کو کیوں نہیں بلایا جاتا۔انصار الامۃ کے رہنما مولانا محمد اقبال فاروقی نے کہا کہ ہندو کبھی مسلمانوں کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکا تھا لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ بھارت میں بابری مسجد کو شہید کیا جاتا ہے تو دوسر ی جانب کشمیرمیں بھی مسلمانوں کا خون بہایا جارہا ہے۔کشمیر کا مسئلہ قربانیوں اور اتحاد سے حل ہو گا۔انجمن تاجران میرپور کے صدر محمد آصف ڈار نے کہا کہ کشمیر کے لئے حافظ محمد سعید کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔ہم جماعۃ الدعوۃ کو یقین دہانی کرواتے ہیں کہ کشمیر کی آزاد ی کے لئے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کو تیار ہیں،پاک فو ج کے شانہ بشانہ رہیں گے۔جماعت اہلحدیث اسلام آباد کے امیر مولانامحمد طلعت مدنی نے کہا کہ اسلام مسلمانوں کو عزت و توقیر دیتا ہے۔اگر عزت خطرے میں ہو تو اسلام دفاع کا حکم دیتا ہے۔ کشمیر ی تمام بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیئے گئے ہیں۔ان کی مدد کرنا فرض ہے۔کشمیری آزادی کے لئے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا چکے ہیں۔جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنما مولاناسید عبدالوحید شاہ ،انجینئر محمد حارث ڈار،ابو موسیٰ،تاجر رہنماچوہدری محمد محمودنے کہا کہ کشمیر مذاکرات سے آزاد نہیں ہو گا۔بھیک مانگنے سے آزادی نہیں ملتی،قربانیوں سے تحریکیں مضبوط ہوتی ہیں۔ موسم سرد ہونے کے باوجود کشمیریوں کے جذبات مان نہیں پڑے،تاجروں نے تجارت بھلا دی اور آزادی کی خواہش کو ترجیح دی۔پوری کشمیری قوم بھارت کی غلامی سے آزادی چاہتی ہے۔دین اسلام نے معیشت کے استحکام کے ساتھ دفاع کا حکم بھی دیا ہے۔ستر سالوں سے مسئلہ کشمیر حل طلب ہے لیکن اقوام متحدہ نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
Scroll To Top