ہر ماہ وزراء کو اپنے اپنے محکموں کے جائزہ اجلاس منعقد کرنے جبکہ ہر تین ماہ کے بعد وزیر اعظم کی زیر صدارت تمام محکموں کی ترقیاتی پراگرس کے حوالہ سے جائزہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ

pm

مظفرآباد ( پی آئی ڈی ) آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر کے وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے آزاد کشمیر میں مالیاتی ڈسپلن پر سختی سے عمل درآمد کیلئے وزیر خزانہ کی سربراہی میں کمیٹی بنانے ، آزاد کشمیر میں ترقیاتی منصوبہ جات کی بروقت اور معیاری تکمیل کیلئے ہر ماہ وزراء کو اپنے اپنے محکموں کے جائزہ اجلاس منعقد کرنے جبکہ ہر تین ماہ کے بعد وزیر اعظم کی زیر صدارت تمام محکموں کی ترقیاتی پراگرس کے حوالہ سے جائزہ اجلاس منعقدکرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس طرح ضلعی سطح پر وزراء اور ممبران اسمبلی کی سربراہی میں ترقیاتی جائزہ کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ آئندہ ڈویلپمنٹ کے فنڈزتنخواہوں پر خرچ نہیں ہونگے ، گزشتہ حکومت کا مالی خسارہ پورا کر لیا جائیگا۔ وزراء اور سیکرٹریز قانون ضابطے کے مطابق سابقہ ادوار کی خرابیوں کو دور کریں اور آئندہ خرابیاں نہ ہونے دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج یہاں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے کمیٹی روم میں حکومت آزاد کشمیر کی پہلی سہ ماہی کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں سینئر وزیر چوہدری طاروق فاروق،وزیر خزانہ ،منصوبہ بندی وصحت عامہ ڈاکٹر نجیب نقی،وزیر جنگلات سردار میر اکبر ،وزیر سماجی بہبود محترمہ نورین عارف،وزیر تعمیرات عامہ چوہدری محمد عزیز،وزیر تعلیم بیرسٹر افتخار گیلانی،سیکرٹریز صاحبان،سربراہان محکمہ جات بھی موجود تھے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات ڈاکٹر سید آصف حسین شاہ نے ترقیاتی سرگرمیوں کی پراگرس کے حوالہ سے تفصیلی بریفنگ دی جبکہ تمام سیکرٹریز صاحبان نے بھی اپنے اپنے محکموں کے بارہ میں بریفنگ دی ۔وزیر اعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے تحریک آزادی کشمیر، آزاد کشمیر میں گڈ گورننس اور تعمیر و ترقی کواپنی ترجیحات میں رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت سیاسی بیان بازی کرتی رہی ۔ بیڈ گورننس کی وجہ سے اداروں کو تباہ و برباد کر دیا اور بجٹ میں 22ارب روپے سے زائد کا مالی خسارہ چھوڑ کر گئے ۔ انہوں نے سیکرٹریز سے کہا کہ ہماری حکومت آپ پر کوئی دباؤ نہیں ڈالے گی ، آپ قانون ضابطہ کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دیں اور وزراء کے ساتھ مل کر آزاد کشمیر میں گڈ گورننس کا خواب شرمندہ تعبیر کریں اور علاقے کی تعمیر و ترقی کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی اپنی بڑی اہمیت ہے ۔لوگ آزاد کشمیر کا موازنہ مقبوضہ کشمیر کی تعمیر و ترقی سے کرتے ہیں ،ہمیں آزاد کشمیر کو مثالی خطہ بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تعمیر و ترقی کے لیے پلاننگ پہلا مرحلہ ہوتا ہے ۔ سیکرٹریز صاحبان اور انجینئرز منصوبہ جات کی بہترین پلاننگ کریں اور پھر اس کی بروقت اور معیاری تعمیر کو یقینی بنائیں اور اس کیلئے مانیٹرنگ کے سسٹم کو زیادہ فعال کریں ۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں کی بروقت اور معیاری تعمیر کیلئے وزراء ہر مہینے اپنے اپنے محکموں کے ترقیاتی کاموں کا جائزہ اجلاس منعقد کریں جس میں سیکرٹری محکمہ کے علاوہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے لوگ بھی شرکت کریں ۔اس طرح ہر تین ماہ بعد مرکزی ترقیاتی جائزہ اجلاس منعقد ہوگا جس کی صدارت میں خود کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ ضلعوں میں ترقیاتی عمل کو تیز ترکرنے کیلئے وزراء اور ممبران اسمبلی پر مشتمل ضلعی ترقیاتی کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں ۔ انہوں نے محکمہ منصوبہ بندی اور مالیات کو ہدایت کی کہ وہ منصوبوں کی بروقت تکمیل فنڈز بروقت فراہم کریں ۔ انہوں نے آئندہ تمام منصوبوں کی تکمیل کی مدت دو سال کرنے کی ہدایت کی ۔ وزیر اعظم نے میرپور تا اسلام گڑھ ، رٹھوعہ ہریام پل کی تعمیر کے کام کو تیز کرنے اور اس کیلئے فنڈز فراہم کرنے کی ہدایت کی ۔ میرپور واٹر سپلائی سکیم میں تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ میرپور کے لوگوں نے پاکستان کی معیشت کی بہتری کیلئے منگلا ڈیم کی تعمیر کیلئے لازوال قربانیاں دی ہیں ۔ جن لوگوں نے پاکستان کیلئے اپنے آباؤ اجداد کی قبروں کی قربانیاں دی ہیں وہ سونے میں تولنے کے قابل ہیں جبکہ گزشتہ حکومتوں نے ان کو پینے کا پانی فراہم کرنے میں غفلت لاپرواہی کی ہے ۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ میرپور واٹر سپلائی سکیم کی تکمیل کیلئے تیزی سے کام کریں ۔ زمینوں کے تنازعات کی وجہ سے مختلف منصوبہ جات میں تاخیر پر وزیر اعظم نے سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ سرکاری زمینوں پر لوگوں کا قبضہ ختم کروائیں اور زمین واگزار کر کے ترقیاتی منصوبے مکمل کریں ۔ اس موقع پرایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات ڈاکٹر سید آصف حسین شاہ نے پہلی سہ ماہی کی پراگرس کے حوالہ سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آزادکشمیر کا مالی سال 2016-17کے لیے کل ترقیاتی بجٹ 12ارب روپے ہے جبکہ وفاقی حکومت نے پہلی سہ ماہی کے لیے 2300ملین روپے فراہم کیے ہیں اور یہ رقم محکمہ جات کو منتقل کر دی گئی ہے۔ اکاؤنٹنٹ جنرل آفس سے موصولہ اہداف کے مطابق ستمبر کے مہینہ تک 1410ملین روپے خرچ ہوئے ہیں جو کل رقم کا 61فیصد بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریلیز بروقت موصول نہ ہونے کی وجہ سے اخراجات بھی کم ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلی سہ ماہی کے دوران محکمہ تعمیرات عامہ نے 98فیصد،محکمہ تعلیم نے 61فیصد ،پاور ڈویلپمنٹ نے 12فیصد،فزیکل پلاننگ وہاؤسنگ نے 59فیصد،جنگلات نے65فیصد ،صحت عامہ نے 52فیصد،زراعت نے86فیصد،انفارمیشن نے44فیصد،سماجی بہبود نے 6فیصد،آئی ٹی نے8،سول ڈیفنس نے 12فیصد جبکہ غیر ملکی امداد سے چلنے والے پراجیکٹس نے 55فیصد اخراجات کیے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مختلف محکمہ جات کے 125منصوبہ جات کو اسی سال مکمل کر لیا جائے گا تاکہ آئندہ سال 125مزید منصوبہ جات ADPمیں شامل کیے جا سکیں۔
Scroll To Top