طاقت کے نشہ میں مدہوش وکیل نے عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑادیں‘نصیرآبادپٹہکہ میں سول جج عدالت کے احاطہ میں مخالف سائل پر تشدد،نازیبا گالیاں،

مظفرآباد/پٹہکہ(بیورو رپورٹ)طاقت کے نشہ میں مدہوش وکیل نے عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑادیں‘نصیرآبادپٹہکہ میں سول جج عدالت کے احاطہ میں مخالف سائل پر تشدد،نازیبا گالیاں،طوفان بدتمیزی‘سائل کو غنڈہ گردی کے زورپر بیان قلمبندکرانے سے جبراً روک دیا،احاطہ عدالت مچھلی منڈی میں تبدیل ہوگیا‘کسی عدالت کو نہیں مانتا،میراکوئی کچھ نہیں بگاڑسکتا،مظفرمغل نامی وکیل کی بڑھکیں‘متاثرہ شخص حصول انصاف کے لئے مرکزی ایوان صحافت پہنچ گیا،عدلیہ ،سینٹرل بار سمیت ذمہ دارحکام سے فوری نوٹس لینے کامطالبہ۔تفصیلات کے مطابق متاثرہ شخص منظورالٰہی منہاس ’سرکاری ملازم ‘نے یہاں سینٹرل پریس کلب میں میڈیا نمائندگان کو بتایاکہ وہ سول جج کی عدالت میں عدالتی حکم پر اپنابیان قلمبندکرانے کیلئے جارہے تھے کہ مظفرحسین مغل ایڈووکیٹ نامی وکیل نے جو کہ ان کے مخالف وکیل ہیں نے انہیں بیان قلمبندکرانے سے منع کیا‘جبکہ انہوں نے کہاکہ وہ عدالت کے حکم پر اپنابیان قلمبندکراناچاہتے ہیں،لیکن مظفرمغل ایڈووکیٹ نے یکایک طوفان بدتمیزی شروع کردی اورنہ صرف عدلیہ کے بارے میں نازیبا کلمات کہے بلکہ مجھے گالیاں دینا شروع کردیں اور حملہ آورہوکر تشددکرنا شروع کردیا،انہوں نے کہاکہ اس وقت احاطہ عدالت میں بڑی تعدادمیں دیگر وکلاء،پولیس اہلکاراور سائلین موجود تھے ۔لیکن موصوف نے کسی کی پراوہ کئے بغیر احاطہ عدالت کو مچھلی منڈی بنادیا۔انہوں نے کہامظفرحسین مغل نامی وکیل کاکردارمقدس قانون،باراور بینچ کیلئے کلنک کا ٹیکہ اور قانون کے نام پر دھبہ ہے۔موصوف قبل ازیں آزادکشمیریونیورسٹی میں کلر ک کے طورپرملازم تھے مگر جامعہ کشمیر سے طلباء کے زکوٰۃ فنڈمیں خردرد کرنے پر ملازمت سے برطرف کئے گئے اور بعدازاں وکالت کا پیشہ اختیارکرلیا۔انہوں نے بتایاکہ مظفرمغل ایڈووکیٹ نے پہلے محمداسلم نامی ایک سرکاری ملازم سے بھی ایسا ہی رویہ اختیارکیااور انہیں بھی احاطہ عدالت میں تشددکانشانہ بناتے ہوئے اپنی دھونس جمانے کی کوشش کی۔متاثرہ شخص منظورالٰہی منہاس نے چیف جسٹس سپریم کورٹ،چیف جسٹس ہائی کورٹ،سول جج نصیرآبادپٹہکہ،مظفرآبادسینٹرل بارپٹہکہ بارسمیت اعلیٰ حکام سے اپیل کہ مذکورہ وکیل کی غنڈہ گردی کا سختی سے نوٹس لیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ مظفرمغل کوایڈووکیٹ کہنا وکلاء کی توہین کے مترادف ہے۔وکلاء برادری ایسی کالی بھیڑوں کو اپنی صفوں سے نکال باہر کرے جو بینچ اور بار کی بدنامی و رسوائی کا باعث بن رہے ہیں۔انہوں نے آزادکشمیربارکونسل سے مطالبہ کیاکہ مظفرمغل نامی وکیل کا لائسنس فی الفور منسوخ کرتے ہوئے تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے اور سائلین کو انصاف فراہم کیاجائے۔دریں اثناء پٹہکہ کی سول سوائٹی،تتاجروں،صحافیوں اور وکلاء نے مذکورہ واقعہ کی شدیدالفاظ میں مذمت کی اور حکام سے نوٹس لیتے ہوئے متاثرہ شخص کی دادرسی کامطالبہ کیا۔

 

Scroll To Top