کنوں حادثے نے ریسکیو کی کارکردگی کا بھانڈہ پھوڑ دیا،عوام نے ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دے دیا

08b8b355-eff4-41c8-bdcd-a81a8d735b0d-680x365

بنڈی چوکی (نمائندہ عدالت ) کنواں حادثہ میں جان بحق ہونے والے 3افراد کے لواحقین ریسکیو1122کے عملہ اور تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سماہنی میں ناکافی سہولیات کیخلاف پھٹ پڑے ،ریسکیو عملہ کے پاس آکسیجن اوردیگر ضروری آلات نہ ہونے اور عملہ کی طرف سے مقامی امدادی کارکنوں کو کنویں میں نہ اترنے دینے کی اجازت دینے سے اموات واقع ہوئیں ،مقامی امدادی کارکنوں نے ایک نوجوان کو زندہ بچا لیا باقی افراد کو بھی بروقت مدد کر کے بچایا جا سکتا تھا ،ہنگامی حالات میں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سماہنی میں بھی فوری امداد کا کوئی مناسب بندوبست نہیں ،مقامی پولیس اور انتظامیہ کے بروقت پہنچنے پر مشکور ہیں ،وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان سے فوری نوٹس لینے اور ریسکیو عملہ وتحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو فعال بنانے کا مطالبہ ۔تفصیل کے مطابق نواحی گاؤں سندوعہ میں کنویں کی صفائی کے دوران دم گھٹنے سے بے ہوش ہو کر جان بحق ہونے والے تین افراد کے لواحقین سے حقائق معلوم کرنے کے لئے مقامی صحافیوں کی ٹیم نے علاقہ کا دورہ کیا اس موقع پر جان بحق ہونے والے تین افراد کے لواحقین بھمبر سے آنے والے ریسکیو عملہ اور تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سماہنی میں ناکافی سہولیات کیخلاف پھٹ پڑے اور شکایات کے انبار لگا دیے ،انتہائی غریب فیملی سے تعلق رکھنے والے سربراہ کنبہ مرزا فضل حسین ،محمد اشرف ،محمد اسلم ،مقبول حسین ،جاوید اقبال ،عنصر محمود ودیگر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قبل ازیں بھی ہم لوگ کنویں میں اترتے رہے ہیں،گزشتہ روز کنویں میں ناپاک جانور گر جانے کی وجہ سے کنویں کی صفائی کے لئے محمد اصغر وغیرہ نے کنویں میں جنریٹر اتارا جس کا دھواں کنویں میں بھر جانے کی وجہ سے ابرار اصغر نامی نوجوان دم گھٹنے سے بے ہوش ہو گیا جسے بچانے کے لئے مزید افراد کنویں میں اترے ابرار اصغر کو بروقت باہر نکال کر بچا لیا گیا تاہم دوسرے تین افراد بروقت امدادی کاروائی نہ ہونے کے باعث جان کی بازی ہار گئے ،واقع کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور انتظامیہ ،اسسٹنٹ کمشنر ،تحصیلدار سماہنی موقع پر پہنچ گئے جنھوں نے اپنے فرائض بھرپور سر انجام دیے تاہم بھمبر سے آنے والے والے ریسکیو عملہ نے اپنے پاس آکسیجن ودیگر ضروری آلات نہ ہونے کے باعث کنویں میں اترنے سے انکار کر دیا اور مقامی امدای کارکنوں کو بھی کنویں میں جانے سے روک دیا ،کئی گھنٹے کی تگ ودو کے بعدکہاولیاں بنڈالہ کے رہائشی ٹیکسی ڈرائیور طالب حسین نے کمال ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریسکیو عملہ کو پیچھے دھکیل کر خود کنویں میں اترکر تینوں افراد کو باہر نکالا ،بھمبر سے آنے والی ایمبولینس میں بھی آکسیجن کا کوئی بندوبست نہیں تھاجبکہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سماہنی میں پہلے ہی ایمرجنسی کی سہولیات کا فقدان ہے ،ہنگامی صورتحال میں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سماہنی میں کوئی خاص بندوبست موجود نہیں ہسپتال صرف مریضوں کو ریفر کرنے کی حد تک کام کر رہا ہے ،لواحقین نے وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان سے مطالبہ کیا کہ بھمبر میں موجود ریسکیو عملہ کا قبلہ فوری درست کرتے ہوئے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سماہنی کو بھی فوری فعال کیا جائے ہم تو اپنے عزیزوں سے محروم ہوگئے تاہم مستقبل میں اس طرح کے حادثات سے بچنے کے لئے ایمرجنسی سہولیات کا موجود ہونا ازحدضروری ہے ،کنواں حادثہ میں جان بحق ہونے والوں میں محمد اصغر محنت کش تھا، محمد رفیق ریٹائرڈ فوجی جبکہ مسعود اقبال دوبئی سے چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا ،جان بحق ہونے والے افراد کے گھر میں تعزیت کے لئے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے اور تین افراد کی المناک وفات پر علاقہ کی فضا سوگوار اور ہر آنکھ اشکبار ہے ،جان بحق افرادکے لواحقین اپنے تاثرات قلمبند کراتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے ،دریں اثنا اہلیان علاقہ سماہنی نے حکومت آزادکشمیر وانتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جان بحق ہونے والے تین افراد کے ورثا کی فوری مالی امداد کی جائے اور عوام کو سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کو فعال بنایا جائے تا کہ آئندہ اس طرح کے واقعات رونما نہ ہوں ۔۔

 

Scroll To Top