لبریشن فرنٹ کے چیرمین یاسین ملک کوصورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ منتقل کر دیا گیا

yaseen-malik

سری نگر(یو این پی) سخت عوامی احتجاج کے بعد لبریشن فرنٹ کے چیرمین یاسین ملک کوصورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ منتقل کر دیا گیا ہے۔ یاسین ملک کے اہل خانہ نے انکی سلامتی پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایاکہ محمدیاسین ملک کودوران اسیری معقول اوربروقت طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں ۔اس دوران بزرگ مزاحمتی قائدسیدعلی گیلانی نے ملک یاسین کورواں جدوجہدکاایک اہم ترین لیڈرقراردیتے ہوئے موصوف کی جلد صحت یابی اور درازی عمر کے لئے دعا کی، لبریشن فرنٹ کے محبوس چیئرمین محمد یاسین ملک کو علاج ومعالجہ کے لئے سینٹرل جیل سرینگر سے نجی شفاخانہ خیبر ہسپتال واقع ناؤ پورہ منتقل کیاگیا۔ معلوم ہواکہ محمد یاسین ملک کی دوران اسیری سخت علالت کیخلاف موصوف کے آبائی علاقہ مایسمہ میں روز مردوزن کی طرف سے سخت احتجاج کے بعد ہفتے کی شام محمد یسین ملک کو پولیس کی سخت سیکورٹی میں سینٹرل جیل سے پرائیویٹ نرسنگ ہوم منتقل کیاگیا۔ موصوف کے اہل خانہ نے بتایا کہ پر ملک یاسین مختلف امراض میں مبتلا ہیں اور دوران اسیری موصوف کو معقول طبی سہولیات فراہم نہ کئے جانے کی وجہ سے ان کی صحت مزید بگڑ گئی ۔انہوں نے کہاکہ پہلے ہی فلورنس ہسپتال واقع چھانہ پورہ میں تعینات ڈاکٹروں نے ملک یاسین کو صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ منتقل کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن موصوف کو سکمز کے بجائے واپس سینٹرل جیل پہنچایاگیا ۔محمد یاسین ملک کے اہل خانہ نے بتایاکہ سنیچر کے روز وہ سینٹرل جیل سرینگر میں موصوف سے جب ملاقات کے لئے چلے گئے تو انہیں یہاں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی ۔انہوں نے کہاکہ جب ہم نے بار بار ملاقات کے لئے منت سماجت کی تو کئی افراد نے محمد یاسین ملک کو کندھوں پر اٹھاکر ہمارے سامنے لایا ۔انہوں نے کہاکہ ملک یاسین از حدکمزور نظرآرہے تھے کیونکہ بروقت طبی سہولیات بہم نہ ہونے کی وجہ سے ان کی صحت کافی بگڑچکی ہے ۔ملک یاسین کے اہل خانہ نے بتایا کہ ہم موصوف کی رہائی کا مطالبہ نہیں کررہے ہیں بلکہ ہماری صرف یہ مانگ ہے کہ انہیں معقول طبی امداد سہولیات فراہم کی جائیں۔ اس دوران بزرگ مزاحمتی قائد سید علی گیلانی نے ملک یاسین کی جلد صحت یابی اور درازی عمر کے لئے دعا کی۔لبریشن فرنٹ کے محبوس رہنما محمد یاسین ملک کو مبینہ طور جیل میں معقول اور مناسب طبی امداد نہ پہنچانے کے خلا ف کل مایسمہ میں لوگوں نے زبر دست احتجاجی مظاہرے کئے اور محبوس رہنما کو معقول اور مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ۔کل دوپہر مرد و زن گھروں سے باہر نکلے اور مائسمہ میں جلوس نکالا گیا ۔جلو س جب بڈشاہ چوک کی طرف آگے بڑھنے لگا تو فورسز اور پولیس نے اس پر دھاوا بول کر جلوس کو منتشر کرنے کے لئے بے تحاشہ ٹئیر گیس شلنگ کی جس سے علاقے میں بھگدڑ مچ گئی ۔اس دوران فورسز اور نوجوانوں کے درمیان بھی ٹکراؤ ہوا ۔لوگ یاسین ملک کی رہائی کا مطالبہ کررہے تھے ۔جلوس کو منتشر کرنے کے بعد لوگ جن میں خواتین کی اچھی خاصی تعداد بھی شامل تھی نے دھرنا دیا ۔اس واقعے سے علاقے میں تناؤ پیدا ہوگیا
Scroll To Top