تحریک آذادی کی جنگجوآسیہ اندرابی کون ہیں،خاندان کہاں اور کس حال میں،مکمل رپورٹ

aasia-andraabi

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے سرگرم خاتون رہنماء آسیہ اندرابی کا نام اکثر لوگوں نے سن رکھاہے لیکن ان کے خاندان کے بارے میں بہت کم لوگوں کو معلوم ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شہید برہان وانی کا ذکر آیا لیکن ڈاکٹر عاشق حسین فاکتو کا ذکر نہیں آیا۔
حامدمیر نے اپنے کالم میں لکھاکہ146146فاکتو صاحب کا ایک تعارف تو یہ ہے کہ وہ آسیہ اندرابی کے خاوند ہیں لیکن ان کا اصل تعارف یہ ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور جنوبی ایشیا میں سب سے لمبی قید کاٹنے والے سیاسی قیدی ہیں۔ آسیہ اندرابی کے ساتھ ان کی شادی 1990ء میں ہوئی۔ 1992ء میں انہیں قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔ ان کی اہلیہ اور چھ ماہ کے بیٹے کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ آسیہ اندرابی اوران کا بیٹا 1995ء میں رہا ہوگئے لیکن فاکتو صاحب پچھلے 24 سال سے جیل میں ہیں۔ جیل میں انہوں نے اسلامک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کرلی اور 125قیدیوں کو گریجویشن کرائی۔ عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا دی تھی جو 14سال بنتی ہے لیکن دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نے انہیں 24 سال سے جیل میں بند کر رکھا ہے۔ یہ وہی ہندوستان ہے جس نے جنوبی افریقہ میں بغاوت اور دہشت گردی کے الزام میں 27سال قید کاٹنے والے نیلسن منڈیلا کو حریت پسند قرار دیا لیکن عاشق حسین فاکتو کو 24 سال سے جیل میں بند کر رکھا ہے۔ اس دوران ان کی اہلیہ کئی مرتبہ گرفتار اور رہا ہوئیں۔ آجکل بھی وہ گرفتار ہیں۔ پاکستان کا میڈیا آسیہ اندرابی کانام تو جانتا ہے کیونکہ وہ ہر سال 14 اگست کو سرینگرمیں پاکستان کا پرچم لہراتی ہیں لیکن پاکستان کے عوام کی بڑی اکثریت کو آسیہ اندرابی کے خاندان کی قربانیوں کا علم نہیں اور اسی لئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں 24سال سے پابند سلاسل عاشق حسین فاکتو کا کسی نے ذکر نہیں کیا۔ میں نے فاکتو کا ذکر صرف اس لئے کیا ہے کہ کچھ لوگ کشمیریوں کی حمایت کر کے یہ تاثر دیتے ہیں کہ انہوں نے کوئی بہت بڑا کام کردیا ہے۔ کیا پاکستان میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے پاکستان کی خاطر اتنی لمبی قید کاٹی ہو۔ فاکتو نے اپنے لئے نہیں پاکستان کیلئے قید کاٹی ہے

Scroll To Top